فخر

میر ادا جعفری کی یہ غزل مجھے بہت سے بھی زیادہ پسند ہے۔امید ہے آپ کو بھی اچھی لگے گی۔ ویسے یہ میری پہلی پوسٹ ہے اردو میں۔!!!۔یہ فخر تو حاصل ہے برے ہیں کہ بھلے ہیں
دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں

جلنا تو چراغوں کا مقدر ہے ازل سے
یہ دل کے کنول ہیں کہ بجھے ہیں نا جلے ہیں

تھے کتنے ستارے کہ سر شام ہی ڈوبے
ہنگام سحر کتنےہی خورشید ڈھلے ہیں

جو جھیل گئے ہنس کے کڑی دھوپ کے تیور
تاروں کی خنک چھاؤں میں وہ لوگ جلے ہیں

ایک شمع بجھائی تو کئی اور جلالیں
ہم گردش دوراں سے بڑی چال چلے ہیں

..میراداجعفری

4 thoughts on “فخر

Leave a Reply