!عادت ڈالو۔۔۔

اچھا ہے کہ تم بھی محبت کرنے لگے مگر
سنانے کی نہیں جناب! سننے کی عادت ڈالو

سوسکو تو بیشک دیکھو ہر رنگ کے خواب مگر
ان میں خالص حقیقت کو آزمانے کی عادت ڈالو

اپنی اپنی بلندی کا غرور تو لازمی ہے مگر
کسی کی نظروں سے کبھی گرنے کی عادت ڈالو

حیثیت کی اپنے نمائش ضرور کرتے رہو مگر
تماشہ بن جائو تو تالی بجانے کی عادت ڈالو

دشنموں کے تیور تو دیکھے ہے سب نے مگر
اپنوں کے بھی فریب کو جھیلنے کی عادت ڈالو

جی جی کے یہاں مرنے والے بے شمار لوگ ہیں مگر
مر مر کے زندگی جینے کی عادت ڈالو

-Poet Unknown

Leave a Reply