All About Me & My Surroundings!

ہم کہاں جارہے ہیں؟

5 Comments
ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو نیکی کرنے سے پہلے اس کے بدلے ملنے والے صلہ کے بارے میں سوچتے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں کہ صلہ کا سننے کے بعد نیکی نہیں کرتے، کچھ ایسے ہیں کہ کرلیتے ہیں اور ایسے بھی لوگ ہیں جو نیکی کرتے ہیں اور صلہ کا نہ پوچھتے ہیں نہ ہی سوچتے ہیں بس نیکی کرتے جاتے ہیں۔۔
لیکن آخری قسم کے لوگ بہت ہی کم ملتے ہیں۔۔ یہ چیز میں نے خون کا عطیہ دینے والوں میں دیکھا ہے۔۔ جہاں فاطمید کا نام سنا فورا” کہ دیا “نیہں بھائی انھیں مت دو، یہ لوگ وقت پڑنے پر خون نہیں دیتے” لیکن وہ لوگ یہ نہیں سوچتے کہ فاطمید والے پہلے ہی ۱۲ سو تھیلیسیمیا بچوں کو خون دے رہے ہیں، کسطرح؟ یہ وہ لوگ ہی جانتے ہیں، کہاں کہاں پھرتے ہیں خون کی بوتلوں کے لیے۔۔ دھوپ میں، سردی میں ھر موسم میں وہ لوگ ایک ایک بوتل کے لیے خوار ہوتے ہیں۔۔
خیر، میں ذیادہ نہیں لکھوں گی، ہم سب کو اللہ تعا لٰی نے عقل دی ہے، آنکھیں دیں ہیں بس انھیں کھولنا باقی ہے۔۔
اب میں اپنے اہم مقصد پر آتی ہوں، وہ یہ ہے کے اس وقت فاطمید میں کسی بھی گروپ کا خون نہیں ہے اور اس کی وجہ سے بہت سے بچے خون سے محروم ہیں، میری درخواست صرف اتنی ہے کہ آپ میں سے جو بھی کراچی میں ہے اور خون کا عطیہ دیسکتے ہیں وہ پلیز پلیز پلیز فاطمید جا کر خون کا عطیہ دیں۔۔
صلہ یہاں نہ ملا تو کوئی غم نہیں، ہمیں آخرت میں ہمارا رب کبھی مایوس نہیں کرے گا۔۔۔ویسے بھی صلہ انسان کیا دے گا؟ انسان کی اوقات ہی کیا ہے؟ بس اپنے رب سے امید اچھی رکھیں :) اور نیکی کرنا نہ بھولیں!۔

اللہ نگہبان!۔
۔۔عائشہ

  • Share/Bookmark
 
Tags:
Posted in: All About Thal...

5 Comments (Leave a comment) »

Leave a Reply