سورۃ رحمن (ایک تاثر)۔

اے فنا انجام انسان کب تجھے ہوش آئے گا
تیرگی میں ٹھوکریں آخر کہاں تک کھائے گا
اس تمرد کی روش سے بھی کبھی شرمائے گا
کیا کرے گا سامنے سے جب حجاب اٹھھ جائے گا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا؟

یہ سحر کا حسن، یہ سیارگاں اور یہ فضا
یہ معطر باغ، یہ سبزہ، یہ کلیاں دل ربا
یہ بیاباں، یہ کھلے میدان، یہ ٹھنڈی ہوا
سوچ تو کیا کیا، کیا ہے تجھھ کو قدرت نے عطا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا؟

خلد میں حوریں تری مشتاق ہیں، آنکھیں اٹھا
نیچی نظریں جن کا زیور، جن کی آرائش حیا
جن و انساں میں کسی نے بھی نہیں جن کو چھوا
جن کی باتیں عطر میں ڈوبی ہوئی جیسے صبا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا؟

سبز گہرے رنگ کی بیلیں چڑھی ہیں جا بجا
نرم شاخیں جھومتی ہیں، رقص کرتی ہے صبا
پھل وہ شاخوں میں لگے ہیں دل فریب و خوش نما
جن کا ہر ریشہ ہے قند و شہد میں ڈوبا ہوا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا؟

ہھول میں خوشبو بھری جنگل کی بوٹی میں دوا
بحر سے موتی نکالے صاف روشن خوش نما
آگ سے شعلہ نکالا، ابر سے آب صفا
کس سے ہوسکتا ہے اس کی بخششوں کا حق ادا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا؟

صبح کے شفاف تاروں سے برستی ہے ضیا
شام کو رنگ شفق کرتا ہے اک محشر بپا
چودھویں کے چاند سے بہتا ہے دریا نور کا
جھوم کر برسات میں اٹھی ہے متوالی گھٹا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا؟

یہ نظم فرسٹ ایر کے کورس اردو کی کتاب سے لی گئی ہے اور لکھا جوش ملیح آبادی نے ہے، مجھے بہت ذیادہ پسند ہے! میں نے دعائیں کی تھیں کہ یہی نظم پیپرز میں آئے! اور میری دعا قبول بھی ہوئی تھی :)!۔

15 thoughts on “
سورۃ رحمن (ایک تاثر)۔

  1. جی یہ واقعی بہت عمدہ ہے۔
    کاش ہم قرآن کو سمجھ سکتے۔

    سوچنے کی بات ہے۔ہم کمپیوٹر میں اس وقت تک کچھ کرنے کے قابل نہیں ہوتے جب تک ہمیں انگریزی نہیں آتی اور قرآن کے ہم رٹے لگاتے ہیں۔اور ناجانے کیسے کیسے ترجمے پڑھتے ہیں۔


    اجمل صاحب نے میرے بلاگ پر یہ تبصرہ کیا ہے۔مجھے کچھ جواب نہیں سوجھ رہا۔

    ” نیا روزگار مبارک ہو ۔ یہ بھائی بہن نے سب کے سامنے کیوں چونچیں لڑانا شروع کر دیں ؟ ویسے شروع آپ نے کی تھی ۔”

  2. شکریہ، بلکل کاش ہم قرآن کو سمجھ سکتے 🙂

    ہا ہا ہا ہا!! اجمل انکل نے کیا غلط کہا؟ :)، بلکل شروع آپ نے کیا تھا کیوں کہ آپ ٹریٹ نہیں دینا چاہتے:(۔

  3. میرا خیال تھا آپ مزاق کر رہی ہیں۔
    مجھے ٹریٹ دینے میں کوئی مسلہ نہیں ہے۔

    جیسے آپ کہیں

  4. خوب ۔ لطف آ گیا ۔ میں نے جوش ملیح آبادی کو بہت پڑھا لیکن یہ نظم پہلی بار آپ کی وساطت سے پڑھی ہے ۔میں جب سے اسلام آباد آیا ہوں جاہل بنتا جا رہا ہوں ۔ اسلام آباد جاہلوں کا شہر ہے ۔ یہاں اچھی کتب اور اچھے پروگرامز والی سی ڈیز بہت مشکل سے اور مہنگی ملتی ہیں اور کوئی ادبی محفل یا عوامی لائبریری نہیں ہے ۔

  5. ثاقب: بھائی میں مذاق ہی کر رہی ہوں، آپ سنجیدہ کیوں ہو رہے ہیں؟ :)! اور جہاں تک بات کیک کی ہے تو اس کے لئے شکریہ
    آپ کا گفٹ یہ رہا۔
    GIFT!

    Html aur Preview per kaam chal raha hai, thora sa intezar darkaar hai :)!

    شعیب صفدر: شکریہ :)۔

    افتخار اجمل: انکل بہت بہت شکریہ پسند کرنے کا، ،میں نے صرف یہی نظم پڑھی ہے جوش کی، پر اور پڑھنا چاہتی ہوں۔ اور اسلام آباد کے بارے میں سن کر حیرت ہورہی ہے، ہمارا دارالخلافہ اور آدب دور دور تک نہیں؟ خیر۔۔ مجھے ذیادہ شوق تو نہیں اسلئے کبھی جو کچھ ہاتھ آیا پڑھ لیا :)!۔

  6. Oh… thanks ayesha for sharing, It’s such a wonderful Nazm.

    And, well I love every verse of quran majeed, but i dont know why … but whenever i recite Surah Rahman … it’s just beyond words experience!!!!

    Copying it for bayaaz 🙂

    wassalam

  7. My pleasure Sister, yeah really its beyond words experience, thanks a lot for spreading the Nazm to more and more people through Bayaaz : )!

    Allah Nigh-e-Baan!

Leave a Reply