All About Me & My Surroundings!

سورۃ رحمن (ایک تاثر)۔

15 Comments
اے فنا انجام انسان کب تجھے ہوش آئے گا
تیرگی میں ٹھوکریں آخر کہاں تک کھائے گا
اس تمرد کی روش سے بھی کبھی شرمائے گا
کیا کرے گا سامنے سے جب حجاب اٹھھ جائے گا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا؟

یہ سحر کا حسن، یہ سیارگاں اور یہ فضا
یہ معطر باغ، یہ سبزہ، یہ کلیاں دل ربا
یہ بیاباں، یہ کھلے میدان، یہ ٹھنڈی ہوا
سوچ تو کیا کیا، کیا ہے تجھھ کو قدرت نے عطا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا؟

خلد میں حوریں تری مشتاق ہیں، آنکھیں اٹھا
نیچی نظریں جن کا زیور، جن کی آرائش حیا
جن و انساں میں کسی نے بھی نہیں جن کو چھوا
جن کی باتیں عطر میں ڈوبی ہوئی جیسے صبا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا؟

سبز گہرے رنگ کی بیلیں چڑھی ہیں جا بجا
نرم شاخیں جھومتی ہیں، رقص کرتی ہے صبا
پھل وہ شاخوں میں لگے ہیں دل فریب و خوش نما
جن کا ہر ریشہ ہے قند و شہد میں ڈوبا ہوا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا؟

ہھول میں خوشبو بھری جنگل کی بوٹی میں دوا
بحر سے موتی نکالے صاف روشن خوش نما
آگ سے شعلہ نکالا، ابر سے آب صفا
کس سے ہوسکتا ہے اس کی بخششوں کا حق ادا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا؟

صبح کے شفاف تاروں سے برستی ہے ضیا
شام کو رنگ شفق کرتا ہے اک محشر بپا
چودھویں کے چاند سے بہتا ہے دریا نور کا
جھوم کر برسات میں اٹھی ہے متوالی گھٹا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا؟

یہ نظم فرسٹ ایر کے کورس اردو کی کتاب سے لی گئی ہے اور لکھا جوش ملیح آبادی نے ہے، مجھے بہت ذیادہ پسند ہے! میں نے دعائیں کی تھیں کہ یہی نظم پیپرز میں آئے! اور میری دعا قبول بھی ہوئی تھی :)

Share
 
Tags:
Posted in: Mine Favorites, My passion - Islam!

15 Comments (Leave a comment) »

Leave a Reply