Moi Self!

Asalaam O Alaikum everyone!!

Firstly: Eid Mubarak to you all, I know am late so make it Belated Eid Mubarak ;p

Reason of being late: Personal Stuff, Professional Stuff & Eid Celebrations

Personal Stuff? Well Lappy is again ill and went to the doctor for checkup *sniff* I don’t know what’s wrong with my poor baby, currently am using my nephew’s pc :)!

Professional Stuff? Yeah… now I have some professional stuff too 😉 okay no more curiosity, actually mabadaulat is working for www.ApniISP.com as a data-manager, who manages the sections called ‘Cook Book, Reviews, Movie Stills, Web-Directory, and many more’, so I was quite busy updating some sections which were in pending because of my Lappy’s problem

Eid Celebration: Did a lot of shopping, went to meet my phopho on Chand-Raat, as the meeting was being delayed from long time because of dad’s masroofiat… at last we all went to meet her and she was really happy to see us :)!, but before that me and mom did a lot of shopping of food items *yummy*, then 1st day of Eid, met guests, mamo and went to mamo’s house in the evening then stayed there for a night and returned back on 2nd day of Eid, enjoyed a lot! Talked about old days…. spend 3rd day at home and now am here :)!

Take Gooooooooood Care of yourself…
Allah Hafiz :)!
-Ayesha

Maan… Meri Maan…

Found it among my collection of Naats…

Maan… Meri Maan…
Meri Maan.. Meri Maan…

Phoolon ki hai mehekar magar teri kami hai…
Chiriyon ki hai chehkar magar teri kami hai…

Kismat ne kia dulat-e-mumta se hai mehroom…
Dulat ka hai ambaar magar teri kami hai…

Aye Maan, Dulat ka hai ambaar magar teri kami hai
Ramazan ki ronaq thi tere dum se duubala…

Hai sehri o iftar magar teri kami hai
Aye Maan, Hai sehri o iftar magar teri kami hai..

Behleem ke amraaz ki tashkhees karey kon?
Aye wakif-e-asraar magar teri kami hai..

Maan teri kami hai…
Maan teri kami hai…

Note: If you want this naat then drop me your email id, will email you…!

Take Cares, Allah Hafiz
-Ayesha

Fatimid Foundation…

Courtesy By: Jang.Com.Pk!

فاطمید فاؤنڈیشن یومیہ 2 سو مریضوں کو خون اور ادویہ فراہم کرتی ہے
کراچی (جمشید بخاری / اسٹاف رپورٹر) فاطمید فاؤنڈیشن خون کے امراض میں مبتلا افراد کو روزانہ 2 سو کے قریب خون کی بوتلیں اور ادویات مفت فراہم کرتی ہے فاؤنڈیشن کی پانچوں شاخوں میں خون کے امراض میں مبتلا تقریباً 12 ہزار افراد رجسٹرڈ ہیں جنہیں باقاعدگی سے مطلوبہ خون اور ادویات فراہم کی جاتی ہیں فاؤنڈیشن کا صدر دفتر کراچی میں ہے جبکہ لاہور، ملتان، پشاور اور کوئٹہ میں فاؤنڈیشن کی شاخیں انسانی جانیں بچانے کیلئے شب روز مصروف ہے۔ فاطمید فاؤنڈیشن کا قیام 1980ء میں عمل میں آیا، ادارے کے بانی ناظم حیدر تھے۔ بعد ازاں مریضوں کی کثیر تعداد کے باعث ادارہ مالی مشکلات کا شکار ہو گیا نومبر1999ء میں احتشام الدین حیدر ادارے کے ٹرسٹی بنے اس وقت ادارے پر 8 کروڑ روپے کے واجبات تھے اور اسٹاف کو کئی کئی ماہ تنخواہوں کی ادائیگیاں نہیں کی گئیں تھیں نومبر 1999ء میں جنرل (ر) معین الدین حیدر ادارے کے اعزازی چیئرمین بنے تو انہوں نے نہ صرف یہ کہ تمام قرضہ ختم کیا بلکہ ادارے کو ایک بار پھر اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا ادارے کو فعال بنانے میں احتشام الدین حیدر کی کاوشوں کا بڑا دخل ہے انہوں نے ادارے کو چلانے کیلئے اپنا کاروبار بند کر دیا بلکہ اپنے ذاتی پیسوں سے بلڈ بینک خریدے تاکہ مریضوں کو خون دیا جا سکے جنرل (ر) معین الدین حیدر کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں ادارہ کئی ایمبولینس اور ٹرک خریدنے میں کامیاب ہوگیا،ٹرک کو خون کے عطیات جمع کرنے کیلئے استعمال کیا جانے لگا، فاؤنڈیشن انسانی خدمت کے شعبے میں ترقی کررہی تھی کہ 21/ دسمبر 2001ء میں دہشت گردوں نے ادارے کے ایگزیکٹو ٹرسٹی احتشام حیدر کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا تاہم ان کے مشن کو جاری رکھنے کیلئے ان کی بیوہ سیما احتشام الدین نے اپنے شوہر کے سوئم کے بعد 25/ دسمبر کو اس کار خیر اور انسانی جان بچانے والے ادارے کی بھاگ دوڑ سنبھال لی۔انہوں نے ادارے میں بحیثیت پیشنٹ آفیسر کام شروع کر دیا جبکہ ان کے نو عمر بیٹے اعجاز احتشام حیدر نے اپنے والد کے مشن کی تکمیل کیلئے اپنی والدہ کا بھرپور ساتھ دیا پاکستان میں ایسی مثالیں انتہائی کم ہیں جہاں پورا کا پورا گھرانہ اپنے آپ کو خدمت خلق کیلئے وقف کر دے، یقیناً یہ اسی خاندان کا امتیاز ہے کہ انہوں نے بلا کسی تفریق کے انسانی جان بچانے کیلئے پورا گھرانہ وقف کر دیا۔ اعجاز حیدر اور ان کی والدہ اپنا زیادہ تر وقت ادارے کی فلاح و بہبود اور مریضوں کی دیکھ بھال میں صرف کرنے لگے ادارے کو اس وقت مزید ایمبولینس اور ٹرکوں کی ضرورت ہے تاکہ اس فلاحی کام کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔ فاطمید فاؤنڈیشن اپنے سینٹرز پر خون کی فراہمی کے علاوہ حادثات، آفات میں بھی بروقت انسانی خدمت کو اپنا فرض اولین تصور کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ 8/ اکتوبر 2005ء کے قیامت خیز زلزلے میں فاطمید فاؤنڈیشن 10/ اکتوبر کو شنکیاری میں کیمپ لگایا جبکہ دیگر شہروں سے ہزاروں خون کی بوتلیں متاثرہ افراد کو فراہم کیں۔ فاؤنڈیشن کے پاس بلوچستان اور اندرون سندھ کے دور دراز علاقوں سے انتہائی غریب مریض آتے ہیں، ان افراد کے پاس کھانے تک کے پیسے نہیں ہوتے، بسا اوقات مریض کے ساتھ آنے والے والدین فاطمید فاؤنڈیشن سے درخواست کرتے ہیں کہ برائے مہربانی مریض کو ”روٹی“ پہلے دے دو، خون بعد میں دے دینا۔ فاطمین فاؤنڈیشن ایسے غریب افراد کے قیام اور طعام کا انتظام بھی کرتی ہے۔ مریض کے ساتھ آنے والے افراد کے لیے بھی قیام اور طعام کا انتظام کیا جاتا ہے، جتنے دن مریض فاؤنڈیشن میں زیر علاج رہتا ہے ان افراد کو مفت قیام و طعام کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔فاطمید فاؤنڈیشن کراچی میں خون کے امراض میں مبتلا 5 ہزار افراد رجسٹرڈ ہیں، یہ تعداد پاکستان میں خون کے امراض میں مبتلا افراد کا 72 فیصد ہے۔ فاطمید فاؤنڈیشن میں زیادہ تر تھیلیسمیا میں مبتلا افراد انتقال خون کے لیے آتے ہیں۔ ان کے علاوہ لوکینہ، ہوموفیلیا اور خون کے دیگر امراض میں مبتلا افراد بھی مفت خون اور ادویات کے لیے آتے ہیں۔ فاؤنڈیشن ایسے افراد کو روزانہ تقریباً 150 بوتل خون فراہم کرتی ہے، ادارے کا سالانہ بجٹ 9کروڑ روپے اورکراچی سینٹرکا بجٹ 4 کروڑ روپے ہے۔ ادارے میں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کے علاوہ دیگر عملہ چوبیس گھنٹے موجود رہتا ہے۔ فاؤنڈیشن میں 6 ماہ سے 24 سال تک کے افراد رجسٹرڈ ہیں۔ فاؤنڈیشن کو خون کے عطیات کے علاوہ رقم کے ذریعے بھی مخیر حضرات کی جانب سے مدد فراہم کی جاتی ہے۔ فاطمید فاؤنڈیشن کی انتظامیہ کے مطابق فاؤنڈیشن نہ تو خون خریدتی ہے اور نہ ہی بیچتی ہے، خون کے عطیات کیمپ لگا کر عوام سے حاصل کیے جاتے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق18 سال سے 55 سال تک کے تندرست افراد خون دے سکتے ہیں، خون دینے سے انسانی جسم میں کسی قسم کی کوئی کمزوری واقع نہیں ہوتی۔ ڈاکٹروں کے مطابق انسانی جسم میں5 ہزار ایل ایم خون ہوتا ہے جبکہ 400 ایم ایل خون کا عطیہ لیا جاتا ہے، ہر تندرست آدمی تین ماہ بعد خون دے سکتا ہے۔ انسانی جسم میں موجود خون کے خلیے ہر تین ماہ بعد ٹوٹ کر نئے خلیے بناتے ہیں اگر خون کا عطیہ نہ دیا جائے تو خون کے خلیے ہر تین ماہ بعد قدرتی عمل کے ذریعے ٹوٹ جاتے ہیں، اس طرح سے خون ضائع ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق پرانے زمانے میں جب خون دینے کا رواج نہیں تھا تو بعض افراد پرانا خون ضائع کرنے اور نیا خون بنانے کے لیے اپنے جسم پر جونک کو بٹھا لیتے تھے جونک ان کے جسم سے خون چوستی رہتی تھی۔ خون دینے سے انسان کے جسم میں نیا توانا خون بنتا ہے۔

For Orginal Article Link, Click Here: