انجکشن اور گولیوں کی مدد سے تھیلیسیمیا سے نجات ممکن ہے، جدید تحقیق

Courtesy By Jang.Com.Pk!

کراچی (اسٹاف رپورٹر) تھیلیسیمیا اب لاعلاج مرض نہیں رہے گا۔ دنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والی تحقیق کے نتائج ظاہر کر رہے ہیں کہ اب تھیلیسیمیا کے 40 فیصد مریض مکمل طور پر خون چڑھانے کے عمل سے نجات حاصل کرلیں گے جبکہ 25 فیصد مریضوں کے خون چڑھنے کے عمل کی رفتار میں طوالت آجائے گی۔ معلوم ہوا ہے کہ سائنس دان ایک عرصے سے تھیلیسیمیا کے مرض کے حوالے سے مختلف تحقیقات میں مصروف تھے۔ یہ تحقیقات کینیڈا، اٹلی، قبرص، انڈیا، تھائی لینڈ اور ایران جیسے ممالک میں بھی جاری ہیں۔ جہاں محقق ایسی ادویات تلاش کرنے یا ایجاد کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو تھیلیسیمیا کے مریضوں کے لئے نہایت مفید ثابت ہو رہی ہیں۔ یہ ادویات گولیوں، انجکشن وغیرہ کی شکل میں دی جارہی ہیں۔ ان ادویات کی مدد سے محقق تھیلیسیمیا کے مریضوں میں ہیموگلوبین ایف کا سوئچ جو ماں کے پیٹ میں تو بچوں میں فعال ہوتا ہے مگر پیدائش کے بعد بند ہوجاتا ہے (یہ سوئچ جسم میں خون بنانے یا پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے) کو دوبارہ آن یا فعال بنانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ سائنس دانوں کی اس تحقیق کے امید افزاء نتائج کو دنیا بھر کے بین الاقوامی تحقیقی ادارے تسلیم کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بین الاقوامی طبی جرنل میں جلد ہی رپورٹ شائع ہونے کی اطلاعات ملی ہیں۔

2 thoughts on “انجکشن اور گولیوں کی مدد سے تھیلیسیمیا سے نجات ممکن ہے، جدید تحقیق”

  1. یہ تو بڑی اچھی خبر ہے اللہ کرے اس میں مکمل کامیابی ہو جائے ۔
    میں تین دن سے آپ کو یاد کر رہا تھا مگر رانطہ نہ کر سکا ۔ حالات نے دماغ خراب کیا ہوا ہے ۔ ناجانے ہمارے حکمران ہمارے ملک اور قوم کو تباہکرنے پر کیوں تُلے ہوئے ہیں ۔

Leave a Reply