شکایت ہے۔۔

alone25.jpg

شکایت ہے۔۔
شکایت ہے۔۔
شکایت ہے۔۔
مجھ کو دل سے یہی شکایت ہے۔۔
شکایت ہے۔۔
جو اس کو مل نہیں سکتا۔۔
جو اس کو مل نہیں سکتا۔۔
کیوں اس کی چاہت ہے؟
مجھ کو دل سے یہی شکایت ہے۔۔
ٹوکڑوں ٹوکڑوں میں مجھ سے روز ملنے والے سن۔۔۔
جب مکمل نہیں ملنا تو کوئی خواب نا بن۔۔
تنہا تنہا ہوں میں، مجھے تیری ضرورت ہے۔۔
مجھ کو دل سے یہی شکایت ہے۔۔
یہ تیری زلفیں تیری آنکھیں، اف یہ تیرا پیراہن۔۔
اور خوشبو سے مہکتا ہوا یہ گورا سا بدن۔۔
جانتا ہوں میں یہ کہ۔۔ کسی غیر کی امانت ہے۔۔
مجھ کو دل سے یہی شکایت ہے۔۔
بن تیرے مجھ کو زندگی سے۔۔خوف لگتا ہے۔۔
ۡقسطوں قسطوں میں مر رہا ہوں۔ؕ۔ روز لگتا ہے۔۔
کس لئے مجھ کو اپنی زندگی سے نفرت ہے؂؟۔۔
مجھ کو دل سے یہی شکایت ہے۔۔
شکایت ہے۔۔
شکایت ہے۔۔
شکایت ہے۔۔
شکایت ہے۔۔

3 thoughts on “شکایت ہے۔۔”

  1. ہم نے گانا سنا نہیں مگر شاعری اچھی لگی۔ اگر چند الفاظ درست کرلیں تو گانے کا مزہ کر کرا نہیں ہو گا۔
    ٹوکروں کو ٹکڑوں میں، تناہ کو تنہا میں اور شاید قصوں کو قسطوں میں بدل دیجئے گا۔” قصوں” کے ہجے گانا دوبارہ سن کر کنفرم کرلیں کہ یہ قسطوں ہی ہے کوئی اور نہیں۔
  2. شکر ہے اس دفعہ ہو گئے ہیں مجھے بھی یہ گانا بہت پسند ہے اور میں نے بلا مبالغہ سینکڑوں دفعہ سنا ہے اسے

Leave a Reply