چھوڑ جائوں گی۔۔

بھلانے سے جو بھلے نہ وہ کہانی چھوڑ جائوں گی۔۔
تیری آنکھوں میں پانی کی ایسی نمی چھوڑ جائوں گی۔۔
لپٹ کر دیر تک در و دیوار روئے گی۔۔
میں ایسی سوگ میں لپٹی جوانی چھوڑ جائوں گی۔۔
مٹائو گے کہاں تک تم میری باتیں میری یادیں۔۔
میں ہر موڑ پر اپنی نشانی چھوڑ جائوں گی۔۔
میرے یہ لفظ مجھے مر کے بھی مرنے نہیں دے گے۔۔
میں چپ ہو کہ بھی لہجے کی روانی چھوڑ جائوں گی۔۔
کچھ اس طرح سے نکلوں گی اس دنیا کو ٹھکرا کر۔۔
میں دشمن کے بھی چہرے پر حیرانی چھوڑ جائوں گی۔۔

12 thoughts on “چھوڑ جائوں گی۔۔”

  1. خیال اچھا باندھا ہے مگر اشعار بے وزن ہیں۔ آپ کو شاعری کا علم عروض ضرور سیکھنا چاہیے کیونکہ آپ میں شاعرہ بننے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس مقصد کیلیے آپ وارث صاحب کا بلاگ پڑھ شروع کر دیں۔

  2. آپ نے خیال اچھا باندھا ہے مگر آپ کے اشعار بے وزن ہیں۔ آپ میں شاعرہ بننے کی صلاحیت موجود ہے مگر اس کیلیے آپ کو علم عروض سیکھنا پڑے گ۔ علم عروض سیکھنے کیلیے وارث صاحب کا بلاگ پڑھنا شروع کر دیں۔

  3. دل تو میرا بہت چاہ رہا تھا کہ اس پر ایک دو شعروں کا اضافہ میں‌بھی کردوں۔۔
    مگر پہلی دفعہ آپ کے بلاگ پر آیا ہوں تو اس ڈر سے کہ آپ برا نہ مان جائیں۔۔۔ باز رہا۔۔۔
    😀

  4. ايسی باتيں نہ کيا کرو ۔ بيٹا ۔ آپ تو بہت ہمت والی لڑکی ہو ۔ اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی سے اُميد قائم رکہيئے وہ سب کچھ کر سکتا ہے اور کرتا ہے ۔
    يہ تو ہو سکتا ہے کہ آپ ميرا نام بھول گئی ہوں ليکن ميں آپ کو دعائيں ديتا رہتا ہوں ۔ سوا تين سال سے کراچي نہيں آيا ورنہ عائشہ کو ملنے آغا خان ہسپتال جاتا اور پھر آپ سے بھي ملنے کي کوشش کرتا ۔ ميں ڈاکٹر عائشہ شيخ کو شايد آپ جانی ہوں بہت اچھي بچی ہے

  5. جی میں ان کے پاس ہی زیر علاج ہوں ، بہت اچھی ڈاکٹر ہیں، آپ کیسے جانتے ہیں؟ دعائوں کا بہت بہت شکریہ بہت ذیادہ ضرورت ہے۔۔ اور میں انکل آپ کو نہیں بھولی
  6. بہت بہت شکریہ جعفر تشریف آوری کا۔۔ برا بلکل نہیں مانو گی کیونکہ یہ غزل میری نہیں
  7. خدا آپ کو صحت کاملہ عطا فرمائے۔ ایک نصیحت کرتے ہیں جو کہنے کو تو آسان ہے مگر کرنے کو مشکل مگر پھر بھی آپ کوشش کریں زندگی کو مثبت معنوں میں لیں اور ہمت کریں۔ اس طرح کے اشعار سے مویوسی جھلکتی ہے اور مایوسی گناہ ہے۔ آپ ہمت بندھانے والا لٹریچر پڑھنا شروع کر دیں اور اسی کے اقتباسات چھاپیں۔ آپ دیکھنا آپ بہت جلد صحت مند ہونا شروع ہو جائیں گی۔
    ہم بھی شاعر نہیں پھر بھی اسی قافیے ردیف میں ایک دو اشعار سے آپ کو تصویر کا دوسرا رخ دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
    میں یقیں رکھتی ہوں ہمت مرداں مدد خدا پر
    کمزور نہیں کہ ادھوری جوانی چھوڑ جاوں گی
    دنیا سنایا کرے گی میری بہادری کے قصے
    مکتب میں پڑھائی جائے ایسی کہنانی چھوڑ جاوں گی

  8. It is really superb. Sometimes verses of poetry depict a person’s condition in such a way that you with your deliberate effort can’t evad them. These verses have something like that with me. Ayesha G! it is not fair to disclose anyone’s feelins publically, especially when want to do away with them. After all, it is really a master piece of ROG.

  9. WOW, zabardast!
    میں یقیں رکھتی ہوں ہمت مرداں مدد خدا پر
    کمزور نہیں کہ ادھوری جوانی چھوڑ جاوں گی
    دنیا سنایا کرے گی میری بہادری کے قصے
    مکتب میں پڑھائی جائے ایسی کہنانی چھوڑ جاوں گی

Leave a Reply