کوئی ایسا۔۔

Alone..

کبھی کبھی آپ کی زندگی میں ایسے واقعہ ہوتے ہیں جن کا ذکر آپ کسی سے نہیں کر پاتے۔۔ آپ کا دل چاہتا ہے کہ کوئی ایسا ہو جس سے میں سب کہ سکوں۔۔ پر ممکن نہیں ہوتا۔۔

کبھی دل چاہتا ہے کوئی ہو جو صرف آپکا ہو۔۔ جو آپ کو سنے، سمجھے، پر آپ کو عجیب نہ جانے ۔۔ آپ سے تنگ نہ آئے، آپ کا مذاق نہ اڑائے۔۔

لاکھوں لوگوں کے ہوتے ہوئے آپ خود کو تنہا سمجھے۔۔ تب دل شدت سے چاہتا ہے کہ ہاں۔۔ یہ وقت ہے جب اکیلا نہیں رہنا۔۔

سلمان کے انتقال کے بعد سے بہت سی ایسی باتیں ہیں جو میں گھر میں کسی سے شیئر نہیں کر سکتی۔۔ کروں گی تو والدہ کو دکھھ ہوگا، وہ روئے گی۔۔ اور یہی سوچ کر چپ کرجاتی ہوں۔۔

پر اب لگتا ہے برداشت سے باہر ہے۔۔ کچھ دن سے ایسے دوست کی خواہش ہے جو سب سنے پر کسی سے کچھ نہ کہے۔۔

دعائوں کی طلبگار۔۔

20 thoughts on “کوئی ایسا۔۔”

  1. یہ سلمان کون ہیں؟
    یہ بلاگ ہوتے ہی اس لیے ہیں کہ جو باتیں کسی اور کو نہیں بتائی جاسکتیں یہاں پر بندہ اپنے دل کی بھڑاس نکال سکتا ہے
    میری عادت تھی کہ میں کسی بھی واقعے کو لکھ لیتا تھا اور یوں مجھ پر سے بوجھ اتر جاتا تھا۔

  2. ميری بارگاہِ ايزی ميں دعا ہے کہ آپ کے دل کا بوجھ ہلکا کرے اور باقی متعلقہ عزيزوں کو بھی اطمينان بخشے
    درست ہے کہ انسان کچھ باتيں اسلئے نہيں کہہ پاتا کہ اُنہيں دُکھ ہو گا جو اسے بہت زيادہ چاہتے ہيں يا وہ اُنہيں بہت زيادہ چاہتا ہے ۔ ميں نے ساری زندگی يہی رويہ اپنايا يہاں تک کہ ميں نے اپنا سردرد يا بخار بھی کبھی کسی کو نہي بتايا ۔ سوچتا ہوں کہ اچھا نہيں کيا کيونکہ جو مجھ سے پيار کرنے والے تھے [والدہ] اور ہيں بہن بھائی بيوی بچے وہ ميرے چہرے سے پڑھتے رہے ۔ اب صورتِ حال يہ ہے کہ ميں ويسے ہی ليٹ جاؤں تو سوالوں کی بوچھاڑ شروع ہو جاتی ہے ۔ کيا ہوا ہے ؟ سوال ہی نہيں پيدا ہوتا کہ آپ ايسے ہی ليٹ جائيں وغيرہ اور جان چھڑانی مُشکل ہو جاتی ہے ۔
    ميرا مشورہ يہ ہے کہ آپ اپنی والدہ محترمہ سے کوئی بات نہ چھپائيں وہ آپ کے چہرے سے سب کچھ پڑھ رہی ہوں گی اور آپ کی طرح وہ بھی اندر ہی اندر گھُل رہی ہوں گی ۔ ايک دن مقرر کيجئے جس دن آپ نے اور آپ کی والدہ محترمہ نے سلمان کی ياد ميں بہت آنسو بہانے ہيں ۔ اس طرح آپ دونوں کے دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا اور آپ کے باقی خاندان پر بھی اس کا اچھا اثر پڑے گا

  3. : ابن سعید
    شکریہ تبصرہ کے لئے، آمین۔ ویسے آپ تصویر سےاتنے بڑھے لگتے نہیں اور آپ نے مجھے بیٹا کہا تو مجھے آپکی ویب سائٹ دیکھنی پڑی آپ کی عمر کا اندازہ لگانے کے لئے۔
    hehe

    : شازل
    سلمان میرے مرحوم بھائی کا نام ہے۔۔ میری عادت نہیں ہے بلاگ پہ سب کچھ لکھنے کی۔ میرا بلاگ میرے عزیز رشتہ دار سب پڑھتے ہیں۔ اسلئے مجھے دھیان رکھنا ہوتا ہے۔

    : افتخار انکل
    شاید آپ ٹھیک کہتے ہیں۔۔ میں والدہ کے سامنے نہیں رو سکتی انکل۔۔ کچھ مجبوری ہے۔۔ دھیان رکھنا ہوتا ہے ان کی صحت کا۔۔ دعا کیجیئے گا میرے لئے۔۔

  4. عائشہ بہنہ اللہ جی سے دعا ہے کہ آپ کی پریشانیوں کو ختم کرے ۔ اور آپ کو ڈھیروں خوشیاں ملیں۔۔۔۔۔۔۔آمین

  5. بی بی!

    آپ اس دنیا میں اکیلی نہیں ہیں ۔ آپکی تسلی کے لئیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس دنیا میں لاکھوں افراد کے ساتھ کچھ اس سے ملتا جلتا معاملہ ہو سکتا ہے۔

    اللہ تعالٰی آپکے بھائی کو جنت الفردوس مین جگہ دے ۔ آمین

  6. بی بی!

    اور ایک ضروری بات جو رہ گئی کہ وقت آنے پہ اللہ تعالٰی کوئی نہ کوئی نیک سبب ایسا بنا دیتے ہیں جب جن خواہشوں کا آپ نے اظہار کیا ہے اسی طرح کا کوئی فرد مل جائے گا جو آپ کی ہر بت کو تسلی سے سنے اور سمجھنت کی کوشش کرے۔ بس آپ اللہ پہ بھروسہ رکھین۔ اور اپنی والدہ کو خوش رکھیں۔عموما ایسے واقعات میں صبر بہت دھیمے دہیمے آتا ہے۔

  7. : عائشہ
    🙂 شکریہ

    : جاوید
    شکریہ بہت بہت مجھے احساس دلانے کے لئے کہ میں اکیلی نہیں۔ دعائوں میں یاد رکھیے گا۔

  8. میری دعا ہے کہ اللہ آپ کو صبر عطا کرے! اور آپ کو کوئی ایسا دوست و اپنا مل جائے جس سے آپ اپنے دل کی باتیں شیئر کر سکے۔ آپ نہایت بہادر ہیں!۔ اپنے بھائی کے انتقال کے بعد آپ نے جس طرح تھیلسیما کے خلاف جہاد کا آغاز کیا ہوا ہے وہ آپ کی اپنے بھائی سے محبت کو ظاہر کرتا ہے۔
    خدا ایسی محبت کرنے والی بہن ہر بھائی کو نصیب کرے۔

  9. آپ ہماری عمر کے حوالے سے کسی قسم کے الجھاؤ کا شکار نہ ہوں ہم بڑھاپے کو عمر سے مشروط نہیں مانتے۔ بیٹا کہنا تو ہمارے لیے معمول کی بات ہے بلکہ ہم تو بٹیا رانی، پگلی، دلاری اور شیطان بچی جیسے جانے کون کون سے القابات استعمال کرتے رہتے ہیں۔ آپ کثرت سے مسکرانے کی کوشش کیا کریں اس سے کئی مسائل از خود حل ہو جاتے ہیں۔ پروردگار آپ کو حوصلہ دیں اور مرحوم کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دیں۔ آمین۔

  10. after reading this passage again n again , i want to say tht it consists of two different parts !

    all those things u can share wth ur bro , can easily b shared wth ur mom .

    dont mixup two different things 😛

  11. Ibn-e-Sayeed: Ameen

    Farrukh: no, there are things which I wouldn’t have shared with brother too 🙂 AND its about after him.. its about the time I spent at hospital with him…

  12. آپ کے بھائی کا جان کی افسوس ھوا، اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ بھائی بہن والدہ والد اولاد ان سب رشتوں کے بچھڑنے کا کرب ناقابل تلافی ھوتا ھے زندگی رک سی جاتی ھے لگتا ھے کہ اب ہم جی نہیں پائیں گے مگر ان سب محبتوں کے ساتھ ایک حقیقت ہماری پیدائیش سے ہی ہمارے ساتھھ ساتھھ سفر کرتی ھے وہ حقیقت ھے ہماری موت، جون ایلیاء نے کیا خوبصورت شعر کہا تھا، حادثوں کا حساب ھے اپنا ۔ ورنہ ھر آن سب کی باری ھے ۔ کسی نے پہلے کسی نے بعد میں جانا ھے صدا قائم رہنے والی ذات صرف اللہ تعالی کی ھے، ھم سب اللہ کی امانت ہیں اسے اختیار ھے جب چاہے وہ اپنی امانت واپس لے لے، آپکا دکھھ کسی لحاظ سے بھی کم نہیں ھے مگر اپنی والدہ کا سوچیں مجھے نہیں پتہ آپکے والد حیات ہیں یا نہیں اگر وہ حیات ہیں تو انکا سوچیں آپ سے زیادہ نقصان انکا ھوا ھے آپ کے آگے پوری زندگی پڑی ھے حالات اور معاملات آپ کے دکھوں کو کسی حد تک مندمل کر دینگے مگر آپ کے والدین جو کہ ایک عمر جی چکے انکا سوچیں کیسے ایک گوشت کے لوتھڑے کو انسان کا روپ دیا ھوگا انہوں نے اور اس پورے مرحلے میں کیا کیا نہ صعوبتیں برداشت کی ھونگی انہوں نے، انسان ایک پودہ بھی لگاتا ھے تو اس سے محبت ھوجاتی ھے کتنی محنت کتنی ریاضت کرتا ھے تب کہیں جا کے وہ پودہ درخت کی شکل اختیار کرتا ھے، اپنے آپ کو اپنی والدہ کی جگہ رکھھ کے سوچیں یقیناَ آپکو اپنا دکھھ کم لگے گا۔ اپنی والدہ کا حوصلہ بنیئے انہیں سنبھالیں تنہائی گھن کی طرح کھا جاتی ھے انسان کو اپنی والدہ کو تنہا نا چھوڑیں ایک لمحے کہ لئیے بھی ہر وقت ان کے ساتھھ ساتھھ رہیں سائے کی طرح تاکے تنہائی کا زہر انکی رگوں میں سرائیت نا کرے، اللہ تعالی آپ کے بھائی کو جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائیں اور آپ لوگوں کو صبر جمیل عطا فرمائیں اور اس صبر پر اجر عظیم عطا فرمائیں آمین۔

  13. آپ کے بھائی کا جان کی افسوس ھوا، اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ بھائی بہن والدہ والد اولاد ان سب رشتوں کے بچھڑنے کا کرب ناقابل تلافی ھوتا ھے زندگی رک سی جاتی ھے لگتا ھے کہ اب ہم جی نہیں پائیں گے مگر ان سب محبتوں کے ساتھ ایک حقیقت ہماری پیدائیش سے ہی ہمارے ساتھھ ساتھھ سفر کرتی ھے وہ حقیقت ھے ہماری موت، جون ایلیاء نے کیا خوبصورت شعر کہا تھا، حادثوں کا حساب ھے اپنا ۔ ورنہ ھر آن سب کی باری ھے ۔ کسی نے پہلے کسی نے بعد میں جانا ھے صدا قائم رہنے والی ذات صرف اللہ تعالی کی ھے، ھم سب اللہ کی امانت ہیں اسے اختیار ھے جب چاہے وہ اپنی امانت واپس لے لے، آپکا دکھھ کسی لحاظ سے بھی کم نہیں ھے مگر اپنی والدہ کا سوچیں مجھے نہیں پتہ آپکے والد حیات ہیں یا نہیں اگر وہ حیات ہیں تو انکا سوچیں آپ سے زیادہ نقصان انکا ھوا ھے آپ کے آگے پوری زندگی پڑی ھے حالات اور معاملات آپ کے دکھوں کو کسی حد تک مندمل کر دینگے مگر آپ کے والدین جو کہ ایک عمر جی چکے انکا سوچیں کیسے ایک گوشت کے لوتھڑے کو انسان کا روپ دیا ھوگا انہوں نے اور اس پورے مرحلے میں کیا کیا نہ صعوبتیں برداشت کی ھونگی انہوں نے، انسان ایک پودہ بھی لگاتا ھے تو اس سے محبت ھوجاتی ھے کتنی محنت کتنی ریاضت کرتا ھے تب کہیں جا کے وہ پودہ درخت کی شکل اختیار کرتا ھے، اپنے آپ کو اپنی والدہ کی جگہ رکھھ کے سوچیں یقیناَ آپکو اپنا دکھھ کم لگے گا۔ اپنی والدہ کا حوصلہ بنیئے انہیں سنبھالیں تنہائی گھن کی طرح کھا جاتی ھے انسان کو اپنی والدہ کو تنہا نا چھوڑیں ایک لمحے کہ لئیے بھی ہر وقت ان کے ساتھھ ساتھھ رہیں سائے کی طرح تاکے تنہائی کا زہر انکی رگوں میں سرائیت نا کرے، اللہ تعالی آپ کے بھائی کو جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا فرمائیں اور آپ لوگوں کو صبر جمیل عطا فرمائیں اور اس صبر پر اجر عظیم عطا فرمائیں آمین۔

  14. پہلے تو یہی کہوں گی ۔ کہ اللہ پاک کی مرضی کے اگے ہم بے بس ہیں ۔ یہ دکھ الفاظ مین بیان کرنے کا نہیں ہے ۔۔۔۔ اور ناہی الفاظ آپ کے دکھوں کا مرہم بن سکتے ہیں ۔ بلاگ بنایا ہی اس لیے جاتا ہے آپ اپنی خوشی اور غمی کو دوسروں کے ساتھ شیئر کرو ۔۔۔لیکن اپنے راز اپنے تک رکھو ، جب تک وہ اپ کے پاس ہے آپ کا اپنا ہے ۔ لیکن جب آپ نے کسی سے کہہ دیا تو وہ راز نہیں رہے گا۔۔۔ جہاں تک دوست کی بات ہے نیٹ پر دوست ملنا بہت مشکل بلکہ ناممکن ہے ۔۔۔ میرا خیال ہے ۔ باقی آپ سمجھدار ہیں ۔ اللہ پاک اپ کو ہمیشہ خوش رکھے آمین

  15. سلام وعلیکم بھای صاحب یہ میرا ویب سایٹ ہے اس کو لنک کر کے اور اپنے دوستوں کو ارسال کر دو آپ کی مہربانی ہو گی جزاک اللہ
    http://www.daaljan.wordpress.com

    ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی کتاب موضوعات کبیر میں اس روایت کو نقل کرنے کے بعد ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کے حوالے سے فرمایا کہ لوگوں کے ہاں یہ حدیث زبانوں پر چڑھی ہوئی ہے۔حانکہ یہ ابراھیم بن عبلہ نامی شخص کا مقولہ ہے۔ تنظیم الاشتات شرح مشکوٰۃ میں اس حدیث کے متعلق بحوالہ تعلق الصبیح اور تفسیر بیضاوی لکھا ہے کہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اس حدیث کی سرے سے کوئی اصل ہی نہیں ہے۔
    (2) شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے فتاویٰ عزیزی میں لکھا ہے کہ ” میں نے اس کو کسی حدیث کی کتاب میں نہیں دیکھا ہے یہ کلام صوفیاء کا تو ہو سکتا ہے مگر حدیث ہر گز نہیں ہے نیز مفہوم کے لحاظ سے بھی تمام علماء نے اس کو جہاد اصغر سے واپس جہاد اکبر کی طرف لوٹنے کے معنی میں لیا ہے۔ نیز عبارات کو سمجھنے کا سلیقہ بھی اسی طرح نہیں ہے اور کتاب دانی کا طریقہ بھی یہ نہیں ہے ۔” (3)مشارع الاشواق الی مصارع العشاق میں ہے کہ ” دشمنان اسلام نے جب دیکھا کہ مسلمان کے پاس اپنے دفاع اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے جہاد جیسی عظیم بنیادی قوت موجود ہے اور جب تک جہاد جاری ہے جو انشاء اللہ تا قیامت جاری رہے گا(مسلم شریف) دشمنان اسلام کے پیر جم نہیں سکتے تو انہوں نے جہاد کا زور تھوڑنے کے لیے اور اس کو کمزور کرنے کے لیے کئی سال کے غوروخوض’ زرکثیر کے صرفہ اور منافقین کے ساتھ گٹھ جوڑ کے بعد اس مشکل کا یہ حل ڈھونڈھ لیا کہ مسلمان کو آسائش و آرائش میں ڈال کر جہاد فی سبیل اللہ کے راستے سے ہٹالیا جائے اور اس کے لیے انہوں نے یہ پُر فریب مہذب طریق کار اختیار کیا کہ انہوں نے جہاد کو اصغر و اکبر میں تقسیم کر دیا اور یہ سمجھا دیا کہ کفر سے جہاد کرنا چھوٹا جہاد ہے اور نفس کے ساتھ دھینگا مُشتی کرنا بڑا جہاد ہے ۔ اس مقصد کے حصول کے لیے ان دشمنان اسلام(غالبا یہودیوں) نے احادیث گھڑ لیں اور ان کی نسبتت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر دی کیونکہ وہ خوب جانتے تھے کہ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے مسلمان ان کو ضرور قبول کرلیں گے چنانچہ انہوں نے اسی طرح یہ حدیث بھی گھڑی جو سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر واضح جھوٹ ہے۔ اور احادیث کی معتبر کتابوں میں یہ حدیث موجود نہیں۔” ابراھیم بن عبلہ اگرچہ ثقہ آدمی ہے مگر دارقطنی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا ہے کہ ان کی طرف بھی اس عبارت کی نسبت واضح نہیں ہے۔ پھر اس من گھڑت حدیث کا کمزور مسلمانوں پر ایسا اثر ہوا کہ انہوں نے جب دیکھا کہ نفس و شیطان کا مقابلہ سب سے بڑا جہاد ہے تو کفار سے اصل جہاد کرنے سے باز آگئے اور قتال سے کنارہ کش ہو کر تسبیح،ذکرو فکر، مراقبے، علم جفر اور علم الاداعداد( یعنی اپنی طرف سے خود حروف کی قیمت مقرر کر کے اصل آیات قرآنی سے انحراف کرنے کا بے بنیاد شیعی طریقہ) تعویذ گنڈے، عملیات، طلسمات اور ذہنی و جسمانی ریاضتوں میں جُت گئےتاکہ مال و جان کے مجاہدے اور جانفشانی کے بغیر نجات و فلاح سب کچھ تسبیح ے چند دانے پھرانے یا کسی صاحب قبر کی عنایات کے شارٹ کٹ کے ذریعے حاصل کر لی جائے گویا چند تعوذات کے ورد کرنے سے دشمن کے میزائل واپس لوٹ جائیں گے نیز ان کے چند پھونکوں سے دشمنوں کے ٹینکوں، توپوں، راکٹ لانچروں اور ہوائی جہازوں میں کیڑے پڑ جائیں گے اور بم اور گولہ بارود جم کر رہ جائیں گے۔ جب تا تاریوں نے سمر قند پر حملہ کیا تو بجائے جہاد کرنے کے وہاں کے امیر نے حکم دیا کہ ختم خواجگان کرالیا جائے اور نتیجہ سقوط سمر قند کی شکل میں آیا۔ جب نیپولین نے مصر پر حملہ کیا تو والی مصر کو علماء ازہر نے کہا کہ ختم بخاری کرلیتے ہیں بس یہی کافی ہے تو نتیجہ سقوط مصر ہی ہوا۔ ان ہی وجوہات کی بنا پر مسلمانان عالم جہاد کی سیدھی شاہراہ چھوڑ کر خواہشات نفس میں ایسے پھنسے کہ سنت کو فرض پر اور مستحب کو واجب پر ترجیح دی جانے لگی اور 85 فیصد اصولوں پر سب مسلمان فرقوں کا اتفاق ہونے کے باوجود 15 فیصدی فروعات جن میں اختلاف رائے کی گنجائش ہے کو اتنا اچھالا گیا کہ یہی میدان جہاد بن گیاجس میں مد مقابل کفار کی بجائے کلمہ گو مسلمان ہی بنے۔ فتح مکہ کو ہی لےلیں فتح مکہ کے موقع پر دس ہزار مجاہدین تھے وہ نصف گھنٹے میں بارہ ہزار مجاہد ہو گئے ان کی نمازیں بھی ابھی درست نہیں ہوئی تھیں ان سب کا اسلام بھی اسی طرح نا مکمل تھا نفس سے جہاد تو کجا ان کو تو ” ایمان بنانے” کا موقع بھی نہ ملاتھا کہ حکم دیا گیا کہ جنگ حنین کے لیے چلو، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کیا ان نو مسلم صحابہ رضی اللہ عنہم نے جہاد اصغر کیا تھا؟ یہ سب مسلمانوں کو غفلت میں ڈالنے کے بہانے ہیں اور اور اصطلاحات کے لغوی معنی کو شرعی معنی و مفہوم پر ترجیح دینے کا نتیجہ ہیں۔

  16. میں یہاں نووارد ہوں ۔ اردو سیارہ سے یہاں چلا آیا ۔ اس پوسٹ پر نظر پڑھی ۔ اپنے جواں سال بہنوئی یاد آگئے ۔ بہن کو دیکھتا ہوں تو درد اور سوا ہوجاتا ہے ۔ بات وہیں آجاتی ہے کہ صبر ہی بہتر علاج ہے ۔ ورنہ درد تو درد ہوتا ہے ۔ جس کو ہوتا ہے وہی اس کا کرب سمجھ سکتا ہے ۔ بہرحال اللہ سے دعا ہے کہ آپ اور آپ کی والدہ کو اللہ صبرِ جمیل عطا فرمائے ، آپ سب کے لیئے آسانیاں پیدا کرے اور مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے ۔ آمین

Leave a Reply