ہم خوابوں کے بیوپاری تھے۔۔

ہم خوابوں کے بیوپاری تھے۔۔
پر اس میں ہوا نقصان بڑا۔۔
کچھھ بخت میں ڈھیروں کالک تھی۔۔
کچھ اب کے غضب کا کال پڑا۔۔
کچھھ راکھھ لیے جھولی میں اور سر پہ ساہوکار کھڑا۔۔
جب دھرتی صحرا صحرا تھی۔۔
ہم دریا دریا روئے تھے۔۔
ہاتھھ کی ریکھائیں چپ تھیں۔۔
اور سر سنگیت میں کھوئے تھے۔۔
تب ہم نے جیون کھیتی میں۔۔
کچھھ خواب انوکھے بوئے تھے۔۔
کچھھ خواب سجل مکانوں کے۔۔
کچھھ بول بہت دیوانوں کے۔۔
کچھھ لفظ جنہیں معنی نہ ملے۔۔
کچھھ گیت شکستہ جانوں کے۔۔
کچھھ پریا گل پروانوں کے۔۔
–احمد فراز

5 thoughts on “ہم خوابوں کے بیوپاری تھے۔۔”

Leave a Reply