International Thalassemia Day & World Blood Donor Day

This slideshow requires JavaScript.

Fatimid Foundation Hyderabad celebrated International Thalassemia Day & World Blood Donor Day at Dialdas Club Hyderabad on 27th May 2016.

FAiTh team was invited by Dr. Rab Nawaz Memon, we are really thankful to him for the invitation, honor and respect.

As it is said every good effort should be appreciated. Fatimid Foundation Hyderabad has 400+ registered thalassemia fellows at the moment, the way Dr. Rab Nawaz [Administrator Fatimid Foundation Hyderabad] is running the center, managing blood donors, financial donors, staff and everything is commendable.

He not only provides blood to the fellows but he has connected himself and center to some really good human beings whom we can call angels, they are providing them free iron chelation medicines too.

Fatimid Foundation Hyderabad has given jobs to some of our thalassemia fellows and that is also a remarkable step towards bringing fellows close to the system and giving them opportunity.

The event was mashaAllah very well organized, attended by a lot of fellows, their parents, donors etc.

Personalities like Commissioner Hyderabad Dr. Qazi Shahid Pervaiz, CEO Fatimid Foundation Karachi Mr. Rumi Dossal, Trustee Dr. Muhammad Farooq Memon & Trustee Mr. Maqbool Ahmed Memon were there to grace the occasion with their presence. It was an honor to be among such personalities.

It is not an easy task to run center with 400+ registered thalassemia fellows, arranging their blood, medicines etc. Dr. Rab Nawaz is doing tremendous job, may Allah bless him with more power & strength for the cause.

If you are in Hyderabad do visit the center, if you live in Hyderabad make sure you donate blood to them every 3 to 4 months and if possible do try to help them financially too.

Just for our reader’s knowledge Fatimid Foundation Centers all over Pakistan provides FREE of cost blood to the children & they provide iron chelation medicines too.

رمضان ڈرائیو

This slideshow requires JavaScript.

پحھلے سال کی طرح اس سال بھی انشااللہ ہم فاطمید میں موجود تھلیسیمیا سے لڑتے بچوں کے لئے عید کے سوٹ، چوڑیاں، گھڑی، مہندی، افطاری اور راشن کے پیکٹ لے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

پچھلے سال ہم ریڈی میڈ کپڑے لے کر گئے تو ہمارے کچھ بچوں کو سائز کی وجہ سے عید کا جوڑا نہیں مل سکا، اس سال ہم نے انھیں کچا سوٹ دینے کا سوچا ہے، تا کہ وہ آرام سے اپنے ناپ کا بنواسکے۔

This slideshow requires JavaScript.

پچھلے سال ہم نے صرف کراچی سینٹر میں عیدی تقسیم کی تھی، اس سال ہمارا ارادہ حیدرآباد ، خیرپور اور راشدآباد سینٹر بھی جانے کا ہے۔

یہ سب ہم اکیلے نہیں کرسکتے، ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے ، ایک عیدی پیک یا راشن پیک دینے سے ہم ان کی زندگی تو نہیں بڑھا سکتے پر ان کی خوشیاں ضرور بڑھا سکتے ہیں۔

ایک عیدی پیک کی قیمت سات سو روپے ہے، راشن کا پیکٹ جس میں انشااللہ پورے رمضان کا راشن ہوگا اس کی قیمت چار ہزار روپے ہے۔

پلیز اپنی زکوۃ سے اس رمضان ان تھیلیسیما سے لڑتے بچوں کی خوشیوں میں اضافہ کریں۔

Ramadan Drive 2016 : https://www.facebook.com/FightAgainstThalassemia/videos/236862350021403/

FAiTh Ramadan & Eid Drive 2015https://www.facebook.com/FightAgainstThalassemia/photos/?tab=album&album_id=218450865195885

نیکی کا سفر

472582232

زندگی میں اپنے لئےاور اپنوں کے لئے ہم ہمیشہ ٹائم نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ ٹائم یعنی وقت کی کمی کا رونا عام ہے۔ لیکن اسی وقت میں دوسروں کے لئے سوچنا اور اسی سوچ پر عمل کرنا دونوں مشکل کام ہے۔ میری اس رائے سے سب ہی اتفاق کریں گے۔ اورسب سے بڑی بات کہ کسی کا دکھ سننا اور دکھ کا مداوا کرنا وہی کرسکتا ہے جس کو اس دکھ کا احساس ہو۔ جب تک خود پہ نہیں بیتتا اس دکھ یا درد کا اندازہ نہیں ہوتا۔ میری بات یا میرا سفر یہی سے شروع ہوتا ہے۔

تھیلیسمیا کےلئے کام کرنا میری فیملی کو اس لئے بھی اچھا لگتا ہے کہ شائد اس درد یا دکھ یا یوں کہ لیں کہ بھائی نومان، سلمان اورعائشہ اس تکلیف سے گزرہے ہیں۔ اور سمجھ سکتے ہیں کہ کس تکلیف اور اذیت سے گزرا جاتا ہے۔ اللہ تعالی کی مصلحت یا حکم خداوندی کےماں اور ابا اپنے بچوں کے ساتھ دوسرے تھیلیسمیا کے بچوں کیلئے شروع ہی سے کیمپ ارینج کرتے تھے۔ اپنی میمن جماعت اور سروس میں رہتے ہوئے ابا نے فاطمید کے لئے بہت سے بلڈ کیمپ ارینج کئے۔ یہی نیکی کا جذبہ ان کے بچوں میں ٹرانسفر ہوا۔ اور الحمداللہ اب تک قائم و دئم ہے۔

سلمان اور نومان نے اپنی چھوٹی سی زندگی میں بہت سے اچھے کام کیے۔ چھوٹی سی زندگی اس لئے کہ اللہ تعالی نے نومان کو سترہ سال دئے اور سلمان کو ۲۴ سال، اس لئے اس چھوٹے سے عرصے میں ان سےجو بن پڑا انھوں نے کیا۔

سلمان نے تھیلیسمیا کے لئےپاکستان کی پہلی مکمل اور معلوماتی ویب سائٹ بنائی www.thalassemia.com.pk جہاں پر آپ کو تھیلیسمیا کیا ہےاور اس سے متعلق ہر سوال کا جواب مل جائے گا۔ اور جو ابھی بھی ایکٹو ہے۔ سلمان ویب ڈیوالپر تھا اور اپنے فن کا ماہرتھا ماشااللہ سے۔

سلمان نے اپنی اس جہاد کوفائٹ انگیسٹ تھیلیسمیا کا نام دیا، جسے فیٹھ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جسے سلمان کی وفات کے بعدعائشہ نے تھیلیسمیا انٹرنیشنل فیڈریشن اور تھیلیسمیا پاکستان فیڈریشن میں رجسرڈ کرایا۔ اس جہاد میں فیملی، دوست احباب کے بعد ۲۰۱۵ کے اختتام میں ہمیں دو اور تھیلیسمیا میجراور  نے جوائن کیا۔

Muhammad Shoaib & Hussain Merchant

عائشہ اپنے بھائی سلمان کے ساتھ کافی اٹیچید تھی، ساتھ ساتھ کام کرنا، ساتھ ساتھ لڑنا، ساتھ میں کھانا پینا۔ اس کے جانےکے بعد کافی اپسٹ رہی۔ ظاہر ہے بنتا ہے، اسلئے اس کو زیادہ دکھ لگتا ہے۔

اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ میں ہر کسی کے کام آئو۔ سلمان کے جانےکے بعد سے پھر سےوہ ایکٹو ہوئی۔ تھیلیسمیا کے لئے کوئی بھی کبھی بھی ہمارے گھر آسکتا ہے، جس میں عائشہ اپنے بساط کے مطابق ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جس میں دوائی ہو یا کوئی معلومات ہو۔ اللہ تعالی کی بڑی نوازش ہے اور آپ جیسے ساتھ دینے والے مخلص لوگ ہو تو انشااللہ اس کام کو کبھی رکنے نہیں دے گیں۔

یہاں ایک چیز واضع کرتی چلوں کہ تھیلیسمیا کا علاج اور اس کی ادویات کا خرچہ پورا کرنا عام بندے کی دسترس سے باہر ہے۔ مہینے مہینے اپنے بچے کو خون لگانا اورمتواتر اس خون لگانے کے چکر میں جسم کے اندر جوفولاد کی زیادتی ہوجاتی ہے اس کو ختم کرنے کےلئے ڈسفرال انجکشن لگانا پڑتی ہے۔ ڈسفرال کا ایک ڈوز اچھی کمپنی کا۱۸۰ پر انجکشن، روز کے ۴ لگانے ہوتے ہیں بچے کے وزن کے حساب سے۔ اس میں کم سے کم ہفتے میں ۵ دن لگانے پڑتے ہیں۔ اب میرے پڑھنے والے حساب لگائیں کہ کتنا خرچہ ہوتا ہوگا؟ آج کل کی مھنگائی میں بندا گھر چلا لےیہی بہت بڑی بات ہے اس میں ساتھ بیماری کا خرچہ وہ بھی ہر مہینے کا کہاں سے کریگا؟ ظاہر ہے اس میں بچے کو نظرانداز کیا جائے گا کہ اس کے اتنے وسائل نہیں کہ وہ خرچہ اٹھا سکے۔

الحمداللہ ابا افوڑد کرسکتے تھے، اماں پہلے بچوں کو فاطمید لے کر جاتی تھیں، سلمان اور عائشہ ۲۰۰۵ میں آغاخان شفٹ ہوئے کیونکہ فاطمید کے ڈاکٹر سلمان کی طیبعت کو لے کر پریشان تھے اور کہا کہ آپ آغا خان میں ڈاکٹر خورشید سے کنسلٹ کریں۔ لیکن ہماری فیملی نے فاطمید سے ناتا نہیں توڑا۔

سب سے پہلا کیس عائشہ کے پاس ہمیوفیلیا کا آیا، اور وہاں سے یہ نیکی کے سفر کا آغاز ہوا اور چل نکلا ۔۔ سفر جاری ہے۔