Email..

Email received yesterday at our official email id from a thalassemic.
ff
“Assalam-0-alikum,

Respescted Sir/Madam,

I am a Thalassaemic Major Patient and i am getting blood transfusion from husaini thalassaemia center ,Would like to take your kindly attention in some problems which me & my other thalassaemic frnds face in our thalassaemia center.

They provide us Desfonak 500 & Deferoxir 500 injection which is useless for iron chelation, because of that low quality injection we face body pain and also our body iron is not getting out with this type of local IRANIAN injections.

Another problem is about environment , The temperature of transfusion room is very high and hot, because always AC is not working and fans are not enough for the room capacity.

So i humbly request to All trustes of Husaini Thalassaemia Center and All members of thalassaemia Federation, kindly take immediate action about this matter.

Do some action instead of only speeches in thalassaemia conferences.

Thanking you,
Your’s Truly”

Sadly we don’t know the identity, the sender doesn’t wish anyone to know who is he/she.. since he is afraid and says “I unable to disclosed my identity because i am registered patient in husaini and if they know me they creates problem for me.”

We hope the trustees of Husaini get the email and resolve the issues of our thalassemia fellows.

If anyone want to stay anonymous and want us to share any problem please let us know, we will raise the voice inshaAllah.

If anyone knows trustees or any high official at Husaini please forward this to them, you might help thalassemia community 🙂

مجھے سمجھ نہیں آتا۔۔

مجھے سمجھ نہیں آتا جب سب کے مقصد ایک ہیں تو سب ایک ساتھ کیوں نہیں ہیں؟ یہ ڈیڑھ انچ کی مسجدیں اور اتنی انا کیوں ہے؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کیا آپ اپنے بچوں کو ہیپاٹائٹس یا ایچ آی وی جیسا غیر میعاری خون لگا سکتے ہیں؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کیا آپ اپنے بچوں کو تجربوں کی بھینٹ چڑھا سکتے ہیں؟ کبھی کسی دوائی کے نام پر، کبھی کسی آپریشن کے نام پر؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کیا آپ اپنے بچوں کو ایک دوائی دیں گے جس کی تحقیق نہیں ہوئی۔۔؟

مجھے سمجھ نہیں آتا آپ ڈونیشن سوئزرلیںڈ کی داوئی کا لے کر ایران کی دوائی کیوں دیں گے جب کہ اس کی کوئی تحقیق مجود نہیں۔۔ اور وہیں آپ سوئزرلینڈ والی دوائی”نوٹ فور سیل” کے لیبل کے ساتھ کیوں بیچیں گے؟

مجھے سمجھ نہیں آتا آپ کڑوروں کا فنڈ بچوں پہ لگانے کے بجائے عمارت کے رنگ اور ترقی پہ کیوں لگاتے ہو؟

مجھے سمجھ نہیں آتا اپنے کالے کرتوت چپھانے کےلئے آپ چار پانچ بچوں کی ضروریات پوری کر کے انہیں تحائف دے کر انہیں دوسرے بچوں کے خلاف کیسے کر لیتے ہو؟

مجھے سمجھ نہیں آتا آپ دس روپے کی دوائی پہ کمیشن کیسے لے لیتے ہو؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کیسے آپ لوگ ان بچوں کی زندگیوں سے کھیل لیتے ہو اور انہی کے نام پہ دیے گَے پیسوں سےعیاشیاں کرتے ہو؟ جب کے آپ نے بھی کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی اس بیماری میں کھویا ہوتا ہے۔۔ کیا آپ اپنے پیارے کے ساتھ بھی یہی کرتے؟

مجھے سمجھ نہیں آتا ایک لمبے عرصے تک ایک ہی چہرے ایک ہی کرسیوں پر کیسے رہ لیتے ہیں؟ آپ لوگ تھکتے نہیں؟

مجھے سمجھ نہیں آتا وہ اپنے ہی ادارے کے بالغ اور سمجھدار بچوں کو آگے کیوں نہیں آنے دیتے؟ کس چیز کا خوف ہے؟

لیکن مجھے یہ سمجھ آتا ہے کہ جب بچوں سے سچ کہنے کا کہتے ہیں تو وہ جھوٹ کیوں بولتے ہیں۔۔ ان کا یہ ڈر کے اگر ہم نے کچھ کہ دیا تو ہمیں یہ ادارہ خون نہیں دے گا۔۔ اور دوسرا کوئی ادارہ انہیں رجسٹر نہیں کرے گا ہم کہاں جائیں گے۔۔ ان کا یہ ڈر کبھی نہیں جائے گا۔۔ اور کالی بھیڑیں ان کے اس ڈر کا فائدہ اٹھاتی رہیں گیں۔۔

اللہ تعالی فرماتا ہے موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے، میری دعا ہے رب سے وہ جلد تھیلیسیمیا کا علاج عطا کرکے ہمیں ان کالی بھیڑوں اور ان کے کاروبار سے نجات دلا دیں۔۔

پتا نہیں پھر یہ کونسا کاروبار کر کے اپنے گھر کا چولہا جلائیں گے؟