مجھے سمجھ نہیں آتا۔۔

مجھے سمجھ نہیں آتا جب سب کے مقصد ایک ہیں تو سب ایک ساتھ کیوں نہیں ہیں؟ یہ ڈیڑھ انچ کی مسجدیں اور اتنی انا کیوں ہے؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کیا آپ اپنے بچوں کو ہیپاٹائٹس یا ایچ آی وی جیسا غیر میعاری خون لگا سکتے ہیں؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کیا آپ اپنے بچوں کو تجربوں کی بھینٹ چڑھا سکتے ہیں؟ کبھی کسی دوائی کے نام پر، کبھی کسی آپریشن کے نام پر؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کیا آپ اپنے بچوں کو ایک دوائی دیں گے جس کی تحقیق نہیں ہوئی۔۔؟

مجھے سمجھ نہیں آتا آپ ڈونیشن سوئزرلیںڈ کی داوئی کا لے کر ایران کی دوائی کیوں دیں گے جب کہ اس کی کوئی تحقیق مجود نہیں۔۔ اور وہیں آپ سوئزرلینڈ والی دوائی”نوٹ فور سیل” کے لیبل کے ساتھ کیوں بیچیں گے؟

مجھے سمجھ نہیں آتا آپ کڑوروں کا فنڈ بچوں پہ لگانے کے بجائے عمارت کے رنگ اور ترقی پہ کیوں لگاتے ہو؟

مجھے سمجھ نہیں آتا اپنے کالے کرتوت چپھانے کےلئے آپ چار پانچ بچوں کی ضروریات پوری کر کے انہیں تحائف دے کر انہیں دوسرے بچوں کے خلاف کیسے کر لیتے ہو؟

مجھے سمجھ نہیں آتا آپ دس روپے کی دوائی پہ کمیشن کیسے لے لیتے ہو؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کیسے آپ لوگ ان بچوں کی زندگیوں سے کھیل لیتے ہو اور انہی کے نام پہ دیے گَے پیسوں سےعیاشیاں کرتے ہو؟ جب کے آپ نے بھی کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی اس بیماری میں کھویا ہوتا ہے۔۔ کیا آپ اپنے پیارے کے ساتھ بھی یہی کرتے؟

مجھے سمجھ نہیں آتا ایک لمبے عرصے تک ایک ہی چہرے ایک ہی کرسیوں پر کیسے رہ لیتے ہیں؟ آپ لوگ تھکتے نہیں؟

مجھے سمجھ نہیں آتا وہ اپنے ہی ادارے کے بالغ اور سمجھدار بچوں کو آگے کیوں نہیں آنے دیتے؟ کس چیز کا خوف ہے؟

لیکن مجھے یہ سمجھ آتا ہے کہ جب بچوں سے سچ کہنے کا کہتے ہیں تو وہ جھوٹ کیوں بولتے ہیں۔۔ ان کا یہ ڈر کے اگر ہم نے کچھ کہ دیا تو ہمیں یہ ادارہ خون نہیں دے گا۔۔ اور دوسرا کوئی ادارہ انہیں رجسٹر نہیں کرے گا ہم کہاں جائیں گے۔۔ ان کا یہ ڈر کبھی نہیں جائے گا۔۔ اور کالی بھیڑیں ان کے اس ڈر کا فائدہ اٹھاتی رہیں گیں۔۔

اللہ تعالی فرماتا ہے موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے، میری دعا ہے رب سے وہ جلد تھیلیسیمیا کا علاج عطا کرکے ہمیں ان کالی بھیڑوں اور ان کے کاروبار سے نجات دلا دیں۔۔

پتا نہیں پھر یہ کونسا کاروبار کر کے اپنے گھر کا چولہا جلائیں گے؟

Leave a Reply