کچھ وھاڑی سے۔۔

Received from a parent of thalassemia major:

اسلام وعلیکم
وھاڑی میں ڈسٹرکٹ ہسپتال جس کی حال ہی میں اپ گریڈیشن کردی گئی مگر تھلیسمیا یونٹ جس کی حالت ذار آپ لوگ خود جا کر دیکھ سکتے ہیں نہ تو بچوں کو بلڈ ملتا ہے اور اگر والدین بلڈ کا بندوبست کر بھی لیں تو نرسنگ سٹاف اور جو ڈاکٹر ہیں کہتے ہیں بڑی سوئی لگائی جائے تاکہ بلڈ جلدی ختم ہو جائے دو بجے تھلیسمیا یونٹ بند کرکے ہم نے گھر جانا ہے اب آپ کو بلڈ کے بارے میں آپ کو بتاتا چلوں کوئی بھی بلڈ کے لیے کیمپ نہیں لگایا جاتا سب سے بڑی بات جو بلڈ ان بچوں کو لگایا جاتا ہے اس کا باقاعدہ طریقہ کار واضح ہے کہ ریڈ سل لگائے جاتے ہیں مناسب سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے وائٹ سل کو ضیائع کر دیا جاتا ہے جس کے ساتھ پلزمہ جو کے بہت قیمتی جانیں بچا سکتا ہے انہیں پانی یا کوڑے کی نظر کردیا جاتا مافیا سرگرم عمل ہے ہر سال ڈسٹرکٹ لیول پر پروگرام کر کے تصاویر کی حد تک اور انہی تصاویر کی وجہ سے ہی اور آج تک نہ کوئی بلڈ کے لیے کیمپ لگایا گیا اور نہ ہی کوئی لوگوں کو تربیتی پروگرام کیاگیا اور تھلیسمیا بچوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جاری ہے 1000کے قریب بچوں کی تعداد ہے جو بالکل ان کو وھاڑی کا تھلیسمیا یونٹ کوئی بھی سہولت نہیں دے رہا اور سٹاف جو گورنمنٹ ان کو اتنی زیادہ تنخواہیں اور سہولیات دیکھ کر حیران ہو جائے گے خدا کے لیے اپیل ہے کہ ان بچوں کے مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلہ کریں اور ان کو نئی اور صحت مند زندگی دینے میں مدد اور بنیادی سہولیات فراہم کریں شکریہ

Leave a Reply