آخر کب تک۔۔؟

آج ایک اور ساتھی ہم سے جدا ہوگیا۔ ۔ ناجانے ہر ماہ کتنے ہمارے ساتھی کسی گاوں دیہات میں انتقال کرجاتے ہیں اس طرح۔ ۔ بہت افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ادارے بیس سال سے زیادہ عرصے سے کام کر رہے ہیں پر ہمارے ساتھی آج بھی کسی ہاسپٹل کے بیڈ پہ سسک سسک کر دم توڑ رہے ہیں۔

جب آپ ایک ادارہ چلا رہے ہو تو مکمل علاج یا پھر کم از کم مکمل رہنمائی / مدد کیوں نہیں کرتے جب آپ کا رجسڑڈ پیشنٹ مشکل میں آتا ہے؟ اتنے عرصے سے آپ ادارہ چلا رہے ہوں تو اتنے تو تعلقات بن ہی جاتے ہیں کہ مریض کا علاج فری اور بہتر ہوجائے یا پھر آپ وہ تعلقات استعمال ہی نہیں کرنا چاہتے۔

ہمارے پاس آج تک ایک مکمل تھیلیسیمیا سینٹر نا بن سکا جہاں ایمرجنسی، اُی سی یو سب موجود ہو پیشنٹ کے لئے۔

ہمارے زیادہ تر پیشنٹ ویسے ہی غریب گھرانے سے ہوتے ہیں، جب مشکل آتی ہے سرکاری ہاسپٹل بھاگتے ہیں جہاں یا تو ٹائم خراب ہوتا ہے کیونکہ آپ تھیلیسیما کا کیس ہو۔ یا آپ کو علاج ہی نہیں دیتے اور واپس تھیلیسیمیا سینٹر بیھج دیتے ہیں۔

پھر اگر وہ کسی طرح نجی ہاسپٹل پہنچے تو بیماری سے پہلے بل کی سوچ مار دیتی ہے۔

سوال یہ کہ کہ پیشنٹ ایسی حالت میں پہنچتا کیوں ہے؟ پہنچ گیا ہے تو کیا اداروں کا فرض نہیں بنتا کہ وہ اس پیشنٹ کی مدد کریں؟ اس کو بہتر سے بہتر ہاسپٹل/ ڈاکٹر سے علاج کروائے؟ یا آپ کے نزدیک یہ ٹھیک ہے کہ اس کو سسک سسک کر مرنے کے لئے چھوڑ دے کیونکہ وہ ایک تھیلیسیما پیشنٹ ہے اور اس کی موت ایسے ہی ہونی تھی (آپ کی سوچ کے مطابق)

پیشنٹ کو اون کرنے میں آخر مسئلہ کیا ہے؟

Leave a Reply