Category Archives: Me, Myself & I

Everything that is about me, myself and I will be found here :)

کچھ تھیلیسیمیا کی نقطہ نظر سے

کچھ تھیلیسیمیا کی نقطہ نظر سے اضافہ

ڈاکٹر بنو قصاب نہیں۔۔ ہم پر تجربہ مت کرو۔۔ ہمیں مکمل معلومات دو تاکہ ہم اپنا خیال رکھیں اور زیادہ، ہمیں صرف خون نا چڑھائو ہمیں فولاد کم کرنے کا طریقہ بھی بتائو، ہم پر ایرانی ڈسفرال ۔۔ بون مورو یا ہائیڈرا کا تجربہ نا کرو۔۔

ہمیں انسان سمجھو، تجربہ کے لئے چوہا نہیں۔۔ تھیلیسیمیا سنٹر میں ہمارے لئے عام ڈاکٹر نہیں ہیموٹولیجیسٹ لائو۔۔ ڈاکٹر بنو قصاب نہیں۔۔

Birthday Celebration..

Our family don’t celebrate birthdays, we usually go out have dinner on birthdays.. and that was the only plan for my 29th birthday [8th December] too.. but thanks to family & friends, had to cut 3 cakes in whole day, had dinner with friends & family.. AND highlight of the day.. celebrated birthday with fellows at Fatimid Foundation 🙂

Nothing can be greater than sharing happiness with others, we all should celebrate our birthdays, any good news with less fortunate.. and even if there is no reason, no birthday we shouldn’t forget them 🙂

مجھے سمجھ نہیں آتا۔۔

مجھے سمجھ نہیں آتا جب سب کے مقصد ایک ہیں تو سب ایک ساتھ کیوں نہیں ہیں؟ یہ ڈیڑھ انچ کی مسجدیں اور اتنی انا کیوں ہے؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کیا آپ اپنے بچوں کو ہیپاٹائٹس یا ایچ آی وی جیسا غیر میعاری خون لگا سکتے ہیں؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کیا آپ اپنے بچوں کو تجربوں کی بھینٹ چڑھا سکتے ہیں؟ کبھی کسی دوائی کے نام پر، کبھی کسی آپریشن کے نام پر؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کیا آپ اپنے بچوں کو ایک دوائی دیں گے جس کی تحقیق نہیں ہوئی۔۔؟

مجھے سمجھ نہیں آتا آپ ڈونیشن سوئزرلیںڈ کی داوئی کا لے کر ایران کی دوائی کیوں دیں گے جب کہ اس کی کوئی تحقیق مجود نہیں۔۔ اور وہیں آپ سوئزرلینڈ والی دوائی”نوٹ فور سیل” کے لیبل کے ساتھ کیوں بیچیں گے؟

مجھے سمجھ نہیں آتا آپ کڑوروں کا فنڈ بچوں پہ لگانے کے بجائے عمارت کے رنگ اور ترقی پہ کیوں لگاتے ہو؟

مجھے سمجھ نہیں آتا اپنے کالے کرتوت چپھانے کےلئے آپ چار پانچ بچوں کی ضروریات پوری کر کے انہیں تحائف دے کر انہیں دوسرے بچوں کے خلاف کیسے کر لیتے ہو؟

مجھے سمجھ نہیں آتا آپ دس روپے کی دوائی پہ کمیشن کیسے لے لیتے ہو؟

مجھے سمجھ نہیں آتا کیسے آپ لوگ ان بچوں کی زندگیوں سے کھیل لیتے ہو اور انہی کے نام پہ دیے گَے پیسوں سےعیاشیاں کرتے ہو؟ جب کے آپ نے بھی کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی اس بیماری میں کھویا ہوتا ہے۔۔ کیا آپ اپنے پیارے کے ساتھ بھی یہی کرتے؟

مجھے سمجھ نہیں آتا ایک لمبے عرصے تک ایک ہی چہرے ایک ہی کرسیوں پر کیسے رہ لیتے ہیں؟ آپ لوگ تھکتے نہیں؟

مجھے سمجھ نہیں آتا وہ اپنے ہی ادارے کے بالغ اور سمجھدار بچوں کو آگے کیوں نہیں آنے دیتے؟ کس چیز کا خوف ہے؟

لیکن مجھے یہ سمجھ آتا ہے کہ جب بچوں سے سچ کہنے کا کہتے ہیں تو وہ جھوٹ کیوں بولتے ہیں۔۔ ان کا یہ ڈر کے اگر ہم نے کچھ کہ دیا تو ہمیں یہ ادارہ خون نہیں دے گا۔۔ اور دوسرا کوئی ادارہ انہیں رجسٹر نہیں کرے گا ہم کہاں جائیں گے۔۔ ان کا یہ ڈر کبھی نہیں جائے گا۔۔ اور کالی بھیڑیں ان کے اس ڈر کا فائدہ اٹھاتی رہیں گیں۔۔

اللہ تعالی فرماتا ہے موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے، میری دعا ہے رب سے وہ جلد تھیلیسیمیا کا علاج عطا کرکے ہمیں ان کالی بھیڑوں اور ان کے کاروبار سے نجات دلا دیں۔۔

پتا نہیں پھر یہ کونسا کاروبار کر کے اپنے گھر کا چولہا جلائیں گے؟

نیکی کا سفر قسط نمبر دوئم

سب سے پہلا کیس شبنم کا آیا، جس کا ذکر پہلی قسط میں کیا گیا ہے۔ شبنم کو ہیموفیلیا ہے، جس میں اگر بلیڈنگ شروع ہوجائے توبند نہیں ہوتی۔ اس کو روکنے کے لئے ایک دوائی جس کا نام رانزمن ہے وہ خریدی جاتی ہے، جس کی لاگت ۳۶۰۰ روپے مہینہ ہے۔ شبنم کی مدد کے لئے ریٹائرڈ کرنل رفیق صاحب نے ویب سائٹ سے عائشہ کا نمبر لیا اور اس کی مدد کرنے کو کہا۔ اور وہاں سے یہ سلسلہ چل نکلا۔

Transamin Capsules

سال ۲۰۱۱ سے لے کے اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس میں ذیادہ تر بچے جنہیں ڈسفرال کی ضرورت ہوتی ہے وہ مہیا کی جاتی ہے۔ کئی ایسے بچے جن کے ماں باپ تعلیمی خرچہ نہیں اٹھا پاتے ان کی بھی مدد کی جاتی ہے۔ کیوںکہ ان کے اتنے وسائل نہیں ہوتے کے بیماری اور پڑھائی کا ایک ساتھ خرچہ اٹھا سکے۔

یہاں میں ایک بات کا ذکر کرتی چلوں کہ تھیلیسیمیا سے بچائو کے لئے شادی سے پہلے ایک بلڈ ٹیسٹ کرایا جاتا ہے جس سے لڑکا اور لڑکی کے تھیلیسیمیا مائنر ہونے کا پتا لگتا ہے۔

سلمان نے ابرار الحق کے پروگرام کون بنے گا نوجوانوں کا وزیراعظم میں بھی اس نقطے کو اٹھایا تھا کہ اس ٹیسٹ کو کرانے سے آئندہ آنے والی نسلوں کو تھیلیسیمیا سے بچایا جاسکتا ہے۔

ایسے کتنے ممالک ہیں جسے کہ سائپرس، سعودیہ عربیہ، ایران جن میں اس ٹیسٹ کو شادی ے پہلے لازمی قرار دے کر اپنے ملک کو تھیلیسیمیا فری بنا چکے ہیں۔ لیکن نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں دن بہ دن اس بیماری کا اضافہ ہورہا ہے کمی نہیں۔ یہاں ٹیسٹ کرانے میں ہماری انا مجروح ہوجاتی ہے۔ بھلے سے ہمارا بچہ ساری زندگی اس عذاب کو جھیلے شائد اسی کو بےحسی کہتے ہیں۔

ہر مہینے خون چڑھانا، خون کے چڑھانے کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے فولاد کو کم کرنے کے لئے ڈسفرال، پمپ، کیلفرکھانا اور اس کے سائڈ افیکٹ بھگتنا سب اتنا آسان نہیں ہے۔

فاطمید، آغا خان، حسینی اور ایسے پتا نہیں کتنے تھیلیسیمیا سینٹرز میں روز بچے اس تکلیف سے گزرتے ہیں۔ کبھی ٹائم ملے تو ان کے ساتھ ایک دن گزار کے دیکھے۔

Thalassemia Children

ڈسفرال کی ڈوز ہر ایک کی رسائی سے باہر ہے جس کے نتیجے میں آپ کو بچے کا بڑھتا ہوا پیٹ صاف نظر آئے گا۔ اندورن سندھ سے ایسے کئی بچے آپ کی توجہ کے منتظر ہیں۔ جن کے پاس آنے جانے کا کرایہ نہ ہو، وہ یہ سب کہاں سے افورڈ کرسکتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے۔

لفظوں میں اس درد کو سمونا مشکل ہے۔ لیکن پھر بھی کوشش کرتی ہوں۔ تصویروں میں جھلکتی ہوئی غربت شائد میرے لفظوں کی صحیح طور پر عکاسی کرسکے۔

Thalassemia Child

قدرتی طور پر خون بننا اور ایک ساتھ جسم میں خون چڑھانا دو الگ الگ باتیں ہیں، پھر ان سب کے چکر میں پاوں کا درد ، رنگ کالا ہونا ، قد کا نہ بڑھنا اور ایسے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں جو کہ نہ صرف برداشت کرنے پڑتے ہیں بلکہ ہر روز اس احساس کے ساتھ جینے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔

بات صرف اتنی ہے جس پر بیتے وہی جانے۔

جو افورڈ کرسکتے ہیں وہ اس بیماری کے ساتھ اچھی زندگی گزار لیتے ہیں۔ لیکن جو اس معاشرے میں مہنگائی کے تلے دبا ہوا اپنے گھر کا خرچہ بامشکل چلا رہا ہو، وہ کہاں اتنا مہنگا علاج افورڈ کرسکتا ہے؟ وہ آپ جیسے صاحبِ حثیت لوگوں کی مدد کا منتظر رہتا ہے۔