چھوڑ جائوں گی۔۔
تیری آنکھوں میں پانی کی ایسی نمی چھوڑ جائوں گی۔۔
لپٹ کر دیر تک در و دیوار روئے گی۔۔
میں ایسی سوگ میں لپٹی جوانی چھوڑ جائوں گی۔۔
مٹائو گے کہاں تک تم میری باتیں میری یادیں۔۔
میں ہر موڑ پر اپنی نشانی چھوڑ جائوں گی۔۔
میرے یہ لفظ مجھے مر کے بھی مرنے نہیں دے گے۔۔
میں چپ ہو کہ بھی لہجے کی روانی چھوڑ جائوں گی۔۔
کچھ اس طرح سے نکلوں گی اس دنیا کو ٹھکرا کر۔۔
میں دشمن کے بھی چہرے پر حیرانی چھوڑ جائوں گی۔۔







