تھیلیسیمیا سینٹرز سے درخواست ہے۔۔

ہم سب جانتے ہیں پاکستان کےتھیلیسیمیا سینٹرز میں پیشنٹ اور پیرنٹس کا عمل دخل بہت واجبی سا ہے، شاید ان کی قابلیت سینٹر چلانے والوں سے کم ہے یا تجربہ نہیں ہے اس لیئے۔۔

ہم باحیثیت تھیلیسیمیا پیشنٹ اور پیرنٹس سوسائٹی سب تھیلیسیمیا سینٹرز سے درخواست کرتے ہیں کہ پیشنٹ اور پیرنٹس کو موقع دیں کہ وہ بھی کچھ کرسکیں، جیسے کہ بلڈ کیمپ میں انہیں لے کر جائے تا کہ وہ ڈونرز کو موٹیویٹ کریں انہیں بتائے کہ ان کا دیا عطیہ کیسے ان کی زندگی بچاتا ہے۔

پیشنٹ اور پیرنٹس کو انتظامیہ میں رکھنے سے ڈونرز کا اعتماد اور بڑھتا ہے اداروں پہ اور پیشنٹ کو بھی موقع ملتا ہے اپنے لئے اور دوسروں کے لئے کچھ کرنے کا۔

پیشنٹ اور پیرنٹس سوسائٹی تمام تھیلیسیمیا سینٹرز کی مدد کے لئے حاضر ہے اگر وہ موقع دیں۔۔

شکریہ

آخر کب تک۔۔؟

آج ایک اور ساتھی ہم سے جدا ہوگیا۔ ۔ ناجانے ہر ماہ کتنے ہمارے ساتھی کسی گاوں دیہات میں انتقال کرجاتے ہیں اس طرح۔ ۔ بہت افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ادارے بیس سال سے زیادہ عرصے سے کام کر رہے ہیں پر ہمارے ساتھی آج بھی کسی ہاسپٹل کے بیڈ پہ سسک سسک کر دم توڑ رہے ہیں۔

جب آپ ایک ادارہ چلا رہے ہو تو مکمل علاج یا پھر کم از کم مکمل رہنمائی / مدد کیوں نہیں کرتے جب آپ کا رجسڑڈ پیشنٹ مشکل میں آتا ہے؟ اتنے عرصے سے آپ ادارہ چلا رہے ہوں تو اتنے تو تعلقات بن ہی جاتے ہیں کہ مریض کا علاج فری اور بہتر ہوجائے یا پھر آپ وہ تعلقات استعمال ہی نہیں کرنا چاہتے۔

ہمارے پاس آج تک ایک مکمل تھیلیسیمیا سینٹر نا بن سکا جہاں ایمرجنسی، اُی سی یو سب موجود ہو پیشنٹ کے لئے۔

ہمارے زیادہ تر پیشنٹ ویسے ہی غریب گھرانے سے ہوتے ہیں، جب مشکل آتی ہے سرکاری ہاسپٹل بھاگتے ہیں جہاں یا تو ٹائم خراب ہوتا ہے کیونکہ آپ تھیلیسیما کا کیس ہو۔ یا آپ کو علاج ہی نہیں دیتے اور واپس تھیلیسیمیا سینٹر بیھج دیتے ہیں۔

پھر اگر وہ کسی طرح نجی ہاسپٹل پہنچے تو بیماری سے پہلے بل کی سوچ مار دیتی ہے۔

سوال یہ کہ کہ پیشنٹ ایسی حالت میں پہنچتا کیوں ہے؟ پہنچ گیا ہے تو کیا اداروں کا فرض نہیں بنتا کہ وہ اس پیشنٹ کی مدد کریں؟ اس کو بہتر سے بہتر ہاسپٹل/ ڈاکٹر سے علاج کروائے؟ یا آپ کے نزدیک یہ ٹھیک ہے کہ اس کو سسک سسک کر مرنے کے لئے چھوڑ دے کیونکہ وہ ایک تھیلیسیما پیشنٹ ہے اور اس کی موت ایسے ہی ہونی تھی (آپ کی سوچ کے مطابق)

پیشنٹ کو اون کرنے میں آخر مسئلہ کیا ہے؟

Thalassemia Patient Issues with Hepatitis in Pakistan

FAiTh Patients & Parents representative Ayesha Mehmood discussing problems faced by #Thalassemia patients regarding hepatitis in event organized by Safe Blood Transfusion Programme, Pakistan on World Hepatitis Day in Karachi.

Thank you so much خواجہ عبدامعز for the video.

Why we ask or talk about screening? Because still there are blood banks and thalassemia centers who are using substandard kits, there are patients we know who take blood from different blood banks due to rare blood group and unavailability of blood in their center, we believe it is our right to know about each and every thing regarding our disorder & treatment. So that we are aware of places / people involved in malpractices.

One thing we forgot to mention that centers are reluctant to register if a patient is diagnosed with hepatitis, our question is where such patients should go then? They must have got hepatitis from a blood bank or thalassemia center right? So why disown them?

our website : http://www.thalassemia.com.pk
our page : https://www.facebook.com/FightAgainstThalassemia
our group : https://www.facebook.com/groups/Fight.Against.Thalassemia/


Notice: ob_end_flush(): failed to send buffer of zlib output compression (0) in /home/skdevne/public_html/ayesha/wp-includes/functions.php on line 3735