Tag Archives: ayesha mehmood

نیکی کا سفر قسط نمبر دوئم

سب سے پہلا کیس شبنم کا آیا، جس کا ذکر پہلی قسط میں کیا گیا ہے۔ شبنم کو ہیموفیلیا ہے، جس میں اگر بلیڈنگ شروع ہوجائے توبند نہیں ہوتی۔ اس کو روکنے کے لئے ایک دوائی جس کا نام رانزمن ہے وہ خریدی جاتی ہے، جس کی لاگت ۳۶۰۰ روپے مہینہ ہے۔ شبنم کی مدد کے لئے ریٹائرڈ کرنل رفیق صاحب نے ویب سائٹ سے عائشہ کا نمبر لیا اور اس کی مدد کرنے کو کہا۔ اور وہاں سے یہ سلسلہ چل نکلا۔

Transamin Capsules

سال ۲۰۱۱ سے لے کے اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس میں ذیادہ تر بچے جنہیں ڈسفرال کی ضرورت ہوتی ہے وہ مہیا کی جاتی ہے۔ کئی ایسے بچے جن کے ماں باپ تعلیمی خرچہ نہیں اٹھا پاتے ان کی بھی مدد کی جاتی ہے۔ کیوںکہ ان کے اتنے وسائل نہیں ہوتے کے بیماری اور پڑھائی کا ایک ساتھ خرچہ اٹھا سکے۔

یہاں میں ایک بات کا ذکر کرتی چلوں کہ تھیلیسیمیا سے بچائو کے لئے شادی سے پہلے ایک بلڈ ٹیسٹ کرایا جاتا ہے جس سے لڑکا اور لڑکی کے تھیلیسیمیا مائنر ہونے کا پتا لگتا ہے۔

سلمان نے ابرار الحق کے پروگرام کون بنے گا نوجوانوں کا وزیراعظم میں بھی اس نقطے کو اٹھایا تھا کہ اس ٹیسٹ کو کرانے سے آئندہ آنے والی نسلوں کو تھیلیسیمیا سے بچایا جاسکتا ہے۔

ایسے کتنے ممالک ہیں جسے کہ سائپرس، سعودیہ عربیہ، ایران جن میں اس ٹیسٹ کو شادی ے پہلے لازمی قرار دے کر اپنے ملک کو تھیلیسیمیا فری بنا چکے ہیں۔ لیکن نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں دن بہ دن اس بیماری کا اضافہ ہورہا ہے کمی نہیں۔ یہاں ٹیسٹ کرانے میں ہماری انا مجروح ہوجاتی ہے۔ بھلے سے ہمارا بچہ ساری زندگی اس عذاب کو جھیلے شائد اسی کو بےحسی کہتے ہیں۔

ہر مہینے خون چڑھانا، خون کے چڑھانے کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے فولاد کو کم کرنے کے لئے ڈسفرال، پمپ، کیلفرکھانا اور اس کے سائڈ افیکٹ بھگتنا سب اتنا آسان نہیں ہے۔

فاطمید، آغا خان، حسینی اور ایسے پتا نہیں کتنے تھیلیسیمیا سینٹرز میں روز بچے اس تکلیف سے گزرتے ہیں۔ کبھی ٹائم ملے تو ان کے ساتھ ایک دن گزار کے دیکھے۔

Thalassemia Children

ڈسفرال کی ڈوز ہر ایک کی رسائی سے باہر ہے جس کے نتیجے میں آپ کو بچے کا بڑھتا ہوا پیٹ صاف نظر آئے گا۔ اندورن سندھ سے ایسے کئی بچے آپ کی توجہ کے منتظر ہیں۔ جن کے پاس آنے جانے کا کرایہ نہ ہو، وہ یہ سب کہاں سے افورڈ کرسکتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے۔

لفظوں میں اس درد کو سمونا مشکل ہے۔ لیکن پھر بھی کوشش کرتی ہوں۔ تصویروں میں جھلکتی ہوئی غربت شائد میرے لفظوں کی صحیح طور پر عکاسی کرسکے۔

Thalassemia Child

قدرتی طور پر خون بننا اور ایک ساتھ جسم میں خون چڑھانا دو الگ الگ باتیں ہیں، پھر ان سب کے چکر میں پاوں کا درد ، رنگ کالا ہونا ، قد کا نہ بڑھنا اور ایسے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں جو کہ نہ صرف برداشت کرنے پڑتے ہیں بلکہ ہر روز اس احساس کے ساتھ جینے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔

بات صرف اتنی ہے جس پر بیتے وہی جانے۔

جو افورڈ کرسکتے ہیں وہ اس بیماری کے ساتھ اچھی زندگی گزار لیتے ہیں۔ لیکن جو اس معاشرے میں مہنگائی کے تلے دبا ہوا اپنے گھر کا خرچہ بامشکل چلا رہا ہو، وہ کہاں اتنا مہنگا علاج افورڈ کرسکتا ہے؟ وہ آپ جیسے صاحبِ حثیت لوگوں کی مدد کا منتظر رہتا ہے۔

نیکی کا سفر

472582232

زندگی میں اپنے لئےاور اپنوں کے لئے ہم ہمیشہ ٹائم نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ ٹائم یعنی وقت کی کمی کا رونا عام ہے۔ لیکن اسی وقت میں دوسروں کے لئے سوچنا اور اسی سوچ پر عمل کرنا دونوں مشکل کام ہے۔ میری اس رائے سے سب ہی اتفاق کریں گے۔ اورسب سے بڑی بات کہ کسی کا دکھ سننا اور دکھ کا مداوا کرنا وہی کرسکتا ہے جس کو اس دکھ کا احساس ہو۔ جب تک خود پہ نہیں بیتتا اس دکھ یا درد کا اندازہ نہیں ہوتا۔ میری بات یا میرا سفر یہی سے شروع ہوتا ہے۔

تھیلیسمیا کےلئے کام کرنا میری فیملی کو اس لئے بھی اچھا لگتا ہے کہ شائد اس درد یا دکھ یا یوں کہ لیں کہ بھائی نومان، سلمان اورعائشہ اس تکلیف سے گزرہے ہیں۔ اور سمجھ سکتے ہیں کہ کس تکلیف اور اذیت سے گزرا جاتا ہے۔ اللہ تعالی کی مصلحت یا حکم خداوندی کےماں اور ابا اپنے بچوں کے ساتھ دوسرے تھیلیسمیا کے بچوں کیلئے شروع ہی سے کیمپ ارینج کرتے تھے۔ اپنی میمن جماعت اور سروس میں رہتے ہوئے ابا نے فاطمید کے لئے بہت سے بلڈ کیمپ ارینج کئے۔ یہی نیکی کا جذبہ ان کے بچوں میں ٹرانسفر ہوا۔ اور الحمداللہ اب تک قائم و دئم ہے۔

سلمان اور نومان نے اپنی چھوٹی سی زندگی میں بہت سے اچھے کام کیے۔ چھوٹی سی زندگی اس لئے کہ اللہ تعالی نے نومان کو سترہ سال دئے اور سلمان کو ۲۴ سال، اس لئے اس چھوٹے سے عرصے میں ان سےجو بن پڑا انھوں نے کیا۔

سلمان نے تھیلیسمیا کے لئےپاکستان کی پہلی مکمل اور معلوماتی ویب سائٹ بنائی www.thalassemia.com.pk جہاں پر آپ کو تھیلیسمیا کیا ہےاور اس سے متعلق ہر سوال کا جواب مل جائے گا۔ اور جو ابھی بھی ایکٹو ہے۔ سلمان ویب ڈیوالپر تھا اور اپنے فن کا ماہرتھا ماشااللہ سے۔

سلمان نے اپنی اس جہاد کوفائٹ انگیسٹ تھیلیسمیا کا نام دیا، جسے فیٹھ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جسے سلمان کی وفات کے بعدعائشہ نے تھیلیسمیا انٹرنیشنل فیڈریشن اور تھیلیسمیا پاکستان فیڈریشن میں رجسرڈ کرایا۔ اس جہاد میں فیملی، دوست احباب کے بعد ۲۰۱۵ کے اختتام میں ہمیں دو اور تھیلیسمیا میجراور  نے جوائن کیا۔

Muhammad Shoaib & Hussain Merchant

عائشہ اپنے بھائی سلمان کے ساتھ کافی اٹیچید تھی، ساتھ ساتھ کام کرنا، ساتھ ساتھ لڑنا، ساتھ میں کھانا پینا۔ اس کے جانےکے بعد کافی اپسٹ رہی۔ ظاہر ہے بنتا ہے، اسلئے اس کو زیادہ دکھ لگتا ہے۔

اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ میں ہر کسی کے کام آئو۔ سلمان کے جانےکے بعد سے پھر سےوہ ایکٹو ہوئی۔ تھیلیسمیا کے لئے کوئی بھی کبھی بھی ہمارے گھر آسکتا ہے، جس میں عائشہ اپنے بساط کے مطابق ہر ممکن مدد کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ جس میں دوائی ہو یا کوئی معلومات ہو۔ اللہ تعالی کی بڑی نوازش ہے اور آپ جیسے ساتھ دینے والے مخلص لوگ ہو تو انشااللہ اس کام کو کبھی رکنے نہیں دے گیں۔

یہاں ایک چیز واضع کرتی چلوں کہ تھیلیسمیا کا علاج اور اس کی ادویات کا خرچہ پورا کرنا عام بندے کی دسترس سے باہر ہے۔ مہینے مہینے اپنے بچے کو خون لگانا اورمتواتر اس خون لگانے کے چکر میں جسم کے اندر جوفولاد کی زیادتی ہوجاتی ہے اس کو ختم کرنے کےلئے ڈسفرال انجکشن لگانا پڑتی ہے۔ ڈسفرال کا ایک ڈوز اچھی کمپنی کا۱۸۰ پر انجکشن، روز کے ۴ لگانے ہوتے ہیں بچے کے وزن کے حساب سے۔ اس میں کم سے کم ہفتے میں ۵ دن لگانے پڑتے ہیں۔ اب میرے پڑھنے والے حساب لگائیں کہ کتنا خرچہ ہوتا ہوگا؟ آج کل کی مھنگائی میں بندا گھر چلا لےیہی بہت بڑی بات ہے اس میں ساتھ بیماری کا خرچہ وہ بھی ہر مہینے کا کہاں سے کریگا؟ ظاہر ہے اس میں بچے کو نظرانداز کیا جائے گا کہ اس کے اتنے وسائل نہیں کہ وہ خرچہ اٹھا سکے۔

الحمداللہ ابا افوڑد کرسکتے تھے، اماں پہلے بچوں کو فاطمید لے کر جاتی تھیں، سلمان اور عائشہ ۲۰۰۵ میں آغاخان شفٹ ہوئے کیونکہ فاطمید کے ڈاکٹر سلمان کی طیبعت کو لے کر پریشان تھے اور کہا کہ آپ آغا خان میں ڈاکٹر خورشید سے کنسلٹ کریں۔ لیکن ہماری فیملی نے فاطمید سے ناتا نہیں توڑا۔

سب سے پہلا کیس عائشہ کے پاس ہمیوفیلیا کا آیا، اور وہاں سے یہ نیکی کے سفر کا آغاز ہوا اور چل نکلا ۔۔ سفر جاری ہے۔

I contribute, do you?

Hello everyone,

We are creating a pool of donors who can contribute monthly for needy patients of Thalassemia & for our Fight Against Thalassemia campaigns, If any of you are interested to become a donor, let me know.

Our plan is to gather donors then according to the monthly contribution we will be sponsoring few non affording Thalassemia patients. And rest of the contribution would be used in our campaigns (blood camps, screening camps & awareness seminars).

You can even donate 100RS, interested people please drop in your email id and you will be added to our pool of donors.

To contribute there are three options, (1) PayPal (2) Bank transfer (3) Personally handing over!

-Ayesha Mehmood
Official Spokesperson
www.thalassemia.com.pk