Tag Archives: iron

زندگی۔۔

صحت ایک نعمت ہے۔۔ اور اس کی قدر تب زیادہ ہوتی ہے جب آپ بیمار ہوں یا جب آپ کے ہاتھ میں ایک لمبی دوائی کی پرچی یا ٹیسٹ کا پرچہ آتا ہے، تب سچ میں صحت کی قدر ہوتی ہے۔

تھیلیسیمیا میجر کی زندگی روز انجکشن لگانے یا دوائی کھانے یا پھر ہر پندرہ دن بعد خون لگوانے میں گزر جاتی ہے۔۔ اس پر اگر خون نہ ملے تو ڈونر ڈھونڈنے میں کچھ گھنٹے اور کبھی دنوں لگ جاتے ہیں۔

آپ لوگ ضرور سوچتے ہونگے کہ آخر مسئلہ کیا ہے؟عائشہ ہمیں بار بار کیوں تھیلیسیمیا کا بتاتی رہتی ہے، اس میں کیا ہوتا ہے، ٹیسٹ کرالینا چاہئیے، وغیرہ وغیرہ ۔۔

آپ لوگ بھی پڑھ کر سوچتے ہونگے، ہاں ٹھیک ہے پڑھ لیا، اب ٹیسٹ کرائیں نہ کرائیں ہماری مرضی۔۔

بلکل یہ آپ کی مرضی ہے۔۔ پر ہمارا بتانا بھی فرض ہے۔۔ زندگی اتنی آسان نہیں جتنی نظر آتی ہے۔۔ کیا معلوم میرے ان مسائل کو بتانے سے آپ اپنی کرسی سے اٹھ کر ٹیسٹ کروائیں اور اپنی آنے والی نسل کو اس بیماری سے بچا لیں؟

تھیلیسیمیا میں مستقل خون لگنے سے ہمارے لئے اور بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جسم میں فولاد کا بڑھنا، ہیپاٹائیٹس، ایڈز، جگر کی خرابی، دل کی کمزوری اور بہت سے مسئلے ہوتے ہیں۔۔

یقین جانے جب خون کا نمونے لیب میں دے کر گھر آتے ہیں تو ذہن میں سو سوال ہوتے ہیں، اگر ہیپاٹائیٹس ہوگیا تو؟ اگر کوئی اور مسئلہ ہوگیا تو؟ ویسے ہی خون لگانے اور فولاد کم کرنے سے تنگ ہیں، کچھ اور ہوگیا تو کیا کریں گے؟

Blood Tests
Blood Tests

چلیں میں اور آپ تو مہنگے سے مہنگا ٹیسٹ بھی کرالیں گے، دوائیاں بھی لے لیں گے۔۔ ان کا کیا ہوگا جن کے پاس نہ ٹیسٹ کے وسائل ہیں نہ دوائی کے۔۔ ہیپاٹائیٹس کا ایک ٹیسٹ آغا خان لیب میں سات ہزار کا ہوتا ہے۔۔ اور وہی ٹیسٹ ڈائو لیب میں دو ہزار آٹھ سو کا۔۔ غریب کہاں سے لائے گا اتنے پیسے۔۔ امیر سے امیر بندہ بھی کبھی کبھی پریشان ہوجاتا ہے۔۔

Bill
Bill

اور اگر خدانخواستہ ٹیسٹ پوزیٹیو آجائے تو پھر ایک لمبی لسٹ دوائی کی یا ٹیسٹ کے نہ ختم ہونے والے سلسلے۔۔ اس ڈر اور خوف کے بیچ گزرتی ہے ایک تھیلیسیمیا میجر کی زندگی۔۔ اور اس زندگی سے بچانے کے لئے ہم چیخ چیخ کر آپ سے کہتے ہیں کہ ٹیسٹ کروالیں۔۔ خدارا اپنے بچوں کو اس اذیت سے بچا لیں۔۔

نیکی کا سفر قسط نمبر دوئم

سب سے پہلا کیس شبنم کا آیا، جس کا ذکر پہلی قسط میں کیا گیا ہے۔ شبنم کو ہیموفیلیا ہے، جس میں اگر بلیڈنگ شروع ہوجائے توبند نہیں ہوتی۔ اس کو روکنے کے لئے ایک دوائی جس کا نام رانزمن ہے وہ خریدی جاتی ہے، جس کی لاگت ۳۶۰۰ روپے مہینہ ہے۔ شبنم کی مدد کے لئے ریٹائرڈ کرنل رفیق صاحب نے ویب سائٹ سے عائشہ کا نمبر لیا اور اس کی مدد کرنے کو کہا۔ اور وہاں سے یہ سلسلہ چل نکلا۔

Transamin Capsules

سال ۲۰۱۱ سے لے کے اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ اس میں ذیادہ تر بچے جنہیں ڈسفرال کی ضرورت ہوتی ہے وہ مہیا کی جاتی ہے۔ کئی ایسے بچے جن کے ماں باپ تعلیمی خرچہ نہیں اٹھا پاتے ان کی بھی مدد کی جاتی ہے۔ کیوںکہ ان کے اتنے وسائل نہیں ہوتے کے بیماری اور پڑھائی کا ایک ساتھ خرچہ اٹھا سکے۔

یہاں میں ایک بات کا ذکر کرتی چلوں کہ تھیلیسیمیا سے بچائو کے لئے شادی سے پہلے ایک بلڈ ٹیسٹ کرایا جاتا ہے جس سے لڑکا اور لڑکی کے تھیلیسیمیا مائنر ہونے کا پتا لگتا ہے۔

سلمان نے ابرار الحق کے پروگرام کون بنے گا نوجوانوں کا وزیراعظم میں بھی اس نقطے کو اٹھایا تھا کہ اس ٹیسٹ کو کرانے سے آئندہ آنے والی نسلوں کو تھیلیسیمیا سے بچایا جاسکتا ہے۔

ایسے کتنے ممالک ہیں جسے کہ سائپرس، سعودیہ عربیہ، ایران جن میں اس ٹیسٹ کو شادی ے پہلے لازمی قرار دے کر اپنے ملک کو تھیلیسیمیا فری بنا چکے ہیں۔ لیکن نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں دن بہ دن اس بیماری کا اضافہ ہورہا ہے کمی نہیں۔ یہاں ٹیسٹ کرانے میں ہماری انا مجروح ہوجاتی ہے۔ بھلے سے ہمارا بچہ ساری زندگی اس عذاب کو جھیلے شائد اسی کو بےحسی کہتے ہیں۔

ہر مہینے خون چڑھانا، خون کے چڑھانے کے نتیجے میں بڑھتے ہوئے فولاد کو کم کرنے کے لئے ڈسفرال، پمپ، کیلفرکھانا اور اس کے سائڈ افیکٹ بھگتنا سب اتنا آسان نہیں ہے۔

فاطمید، آغا خان، حسینی اور ایسے پتا نہیں کتنے تھیلیسیمیا سینٹرز میں روز بچے اس تکلیف سے گزرتے ہیں۔ کبھی ٹائم ملے تو ان کے ساتھ ایک دن گزار کے دیکھے۔

Thalassemia Children

ڈسفرال کی ڈوز ہر ایک کی رسائی سے باہر ہے جس کے نتیجے میں آپ کو بچے کا بڑھتا ہوا پیٹ صاف نظر آئے گا۔ اندورن سندھ سے ایسے کئی بچے آپ کی توجہ کے منتظر ہیں۔ جن کے پاس آنے جانے کا کرایہ نہ ہو، وہ یہ سب کہاں سے افورڈ کرسکتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے۔

لفظوں میں اس درد کو سمونا مشکل ہے۔ لیکن پھر بھی کوشش کرتی ہوں۔ تصویروں میں جھلکتی ہوئی غربت شائد میرے لفظوں کی صحیح طور پر عکاسی کرسکے۔

Thalassemia Child

قدرتی طور پر خون بننا اور ایک ساتھ جسم میں خون چڑھانا دو الگ الگ باتیں ہیں، پھر ان سب کے چکر میں پاوں کا درد ، رنگ کالا ہونا ، قد کا نہ بڑھنا اور ایسے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں جو کہ نہ صرف برداشت کرنے پڑتے ہیں بلکہ ہر روز اس احساس کے ساتھ جینے میں بھی دشواری ہوتی ہے۔

بات صرف اتنی ہے جس پر بیتے وہی جانے۔

جو افورڈ کرسکتے ہیں وہ اس بیماری کے ساتھ اچھی زندگی گزار لیتے ہیں۔ لیکن جو اس معاشرے میں مہنگائی کے تلے دبا ہوا اپنے گھر کا خرچہ بامشکل چلا رہا ہو، وہ کہاں اتنا مہنگا علاج افورڈ کرسکتا ہے؟ وہ آپ جیسے صاحبِ حثیت لوگوں کی مدد کا منتظر رہتا ہے۔